Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصد کو پالے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے سامنے ایک سوچا ہوا نشانہ ہو۔ جس کی صداقت پر اس کا ذہن مطمئن ہو جس کے سلسلے میں اس کا ضمیر پوری طرح اس کا ساتھ دے رہا ہو ، جو اس کی رگ و پے میں خون کی طرح اترا ہوا ہو۔ یہی مقصدی نشانہ کسی انسان کو جانوروں سے الگ کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو انسان اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ اور جس آدمی کے اندر مقصدیت آجاۓ اس کی زندگی لازماً ایک اور زندگی بن جائے گی۔ وہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے کے بجاۓ اپنی منزل پر نظر رکھے گا۔ وہ یک سوئی کے ساتھ اپنے مقررہ نشانہ پر چلتا رہے گا یہاں تک کہ منزل پر پہنچ جائے گا۔ رواجى ذهن الیس ہووے (Elias Howe) امریکا کے مشہور شہر مساچوچسٹ کا ایک معمولی کاریگر تھا ۔ وہ 1819ء میں پیدا ہوا اور صرف 48 سال کی عمر میں 1867ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ مگر اس نے دنیا کو ایک ایسی چیز دی جس نے کپڑے کی تیاری میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ یہ سلائی کی مشین تھی جو اس نے 1845 میں ایجاد کی۔ الیس ہووے نے جو مشین بنائی اس کی سوئی میں دھاگہ ڈالنے کے لیے ابتداء سوئی کی جڑ کی طرف چھید ہوتا تھا جیسا کہ عام طور پر ہاتھ کی سوئیوں میں ہوتا ہے۔ ہزاروں برس سے انسان سوئی کی جڑ میں چھید کرتا آ رہا تھا۔ اس لیے الیس ہووے نے جب سلائی مشین تیار کی تو اس میں بھی عام رواج کے مطابق اس نے جڑ کی طرف چھید بنایا۔ اس کی وجہ سے اس کی مشین ٹھیک کام نہیں کرتی۔ شروع میں وہ اپنی مشین سے صرف جو تا سی سکتا تھا۔ کپڑے کی سلائی اس مشین پر ممکن نہ تھی۔ الیس ہووے ایک عرصہ تک اسی ادھیڑ پن میں رہا مگر اس کی سمجھ میں اس کا کوئی حل نہ آتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page