راز حیات
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ آخر کار اس نے ایک خواب دیکھا اس خواب نے اس کا مسئلہ حل کر دیا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی وحشی قبیلے کے آدمیوں نے اس کو پکڑ لیا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ وہ 24 گھنٹہ کے اندر سلائی کی مشین بنا کر تیار کرے۔ ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ اس نے کوشش کی مگر مقررہ مدت میں وہ مشین تیار نہ کر سکا۔ جب وقت پورا ہو گیا تو قبیلہ کے لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھ میں برچھا تھا۔ ہووے نے غور سے دیکھا تو ہر برچھے کی نوک پر ایک سوراخ تھا یہی دیکھتے ہوئے اس کی نیند کھل گئی۔ ہووے کو آغاز مل گیا۔ اس نے برچھے کی طرح اپنی سوئی میں بھی نوک کی طرف چھید بنایا اور اس میں دھاگا ڈالا۔ اب مسئلہ حل تھا۔ دھاگے کا چھید اوپر ہونے کی وجہ سے جو مشین کام نہیں کر رہی تھی وہ نیچے کی طرف چھید بنانے کے بعد بخوبی کام کرنے لگی۔ ہووے کی مشکل یہ تھی کہ وہ روایتی ذہن سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ جو چیز ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہے، وہ صحیح ہے۔ جب اس کے لاشعور نے اس کو تصویر کا دوسرا رخ دکھایا اس وقت وہ معاملہ کو سمجھا اور فوراً حل کر لیا۔ جب آدمی اپنے آپ کو ہمہ تن کسی کام میں لگا دے۔ تو وہ اسی طرح اس کے رازوں کو پالینا ہے جس طرح مذکورہ شخص نے پالیا۔ مقصدیت جاپان نے 1931 میں چین کے شمال مشرقی حصہ (منچوریا) پر قبضہ کر لیا۔ اور وہاں اپنی پسند کی حکومت قائم کر دی۔ اس کے بعد چین اور جاپان کے تعلقات خراب ہو گئے۔ 7 جولائی 1937 کو بیجنگ (پیکنگ) کے پاس مارکوپولو برج کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ نے دبے ہوئے جذبات کو بھڑک کا دیا۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ شروع ہو گیا جو بالآخر دوسری جنگ عظیم تک جا پہنچا۔ اس وقت سے چین اور جاپان کے درمیان نفرت اور کشیدگی پائی جاتی تھی۔ چند سال پہلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader