Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے سامنے لال سگنل روشن ہوگیا ہے تو وہ وہیں رک جاتی ہے تا کہ دوسری سڑک سے چلنے والی سواریوں کو گزرنے کا موقع دیدے۔ جب دوسری سڑک کی سواریاں نکل جاتی ہیں تو لال سگنل کی جگہ ہرا سگنل روشن ہوجاتا ہے۔ اب آپ کی سواری کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ چوراہبہ کو پار کر کے آگے بڑھے اور اپنا سفر جاری رکھے۔ چوراہبہ کا یہ قانون زندگی کا قانون بھی ہے۔ زندگی کی سڑک کوئی خالی سڑک نہیں جس پر آپ اپنی مرضی کے مطابق صرف اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں۔ یہاں دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں اور وہ بھی اپنا اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے اندر یہ وسعت اور لچک کرے کہ وہ یہاں خود راستہ لینے کے ساتھ دوسروں کو بھی راستہ دے۔ جولوگ اپنے اندر یہ حکمت پیدا نہ کریں ان کا انجام وہی ہوگا جو ایسے چوراہبہ کا، جہاں کوئی سوار اپنی سواری کو نہ روکے۔ ہر ایک بس اندھا دھند اپنی سواری دوڑاتا ہے۔ یاد رکھئے، زندگی کی شاہراہ پر آپ ہی اکیلے نہیں ہیں۔ یہاں بہت سے دوسرے چلنے والے بھی ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ زندگی کی شاہراہ پر آگے بڑھیں تو آپ کو دوسروں کے لیے بھی گزرنے کا موقع دینا ہوگا۔ سڑک کے کسی حصہ پر اگر آپ اپنی گاڑی کو دوڑانے کا موقع پارہے ہیں تو سڑک کے کسی دوسرے حصے پر آپ کو اپنی گاڑی روکنی بھی ہوگی تا کہ دوسری سواریاں ٹکرائے بغیر گزرنے کا موقع پاسکیں۔ اپنا حق لینے کے لیے دوسروں کا حق دینا پڑتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ دوسروں کو ان کا حق دے بغیر اپنا حق پالیں تو موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کامیاب تدبیر ایک مغربی کمپنی نے موٹر کار کا ایک ٹائر بنایا۔ اس نے اشتہار دیا کہ جو شخص ہمارے ٹائر میں کوئی واقعی خرابی بتائے گا اس کو پچاس ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ جب اس کمپنی کا ٹائر بازار میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page