راز حیات
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوؤں اور مسلمانوں کی اتنی بڑی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ عمارت کا یہی انجام اس کے معماروں کے لیے بھی مقدر تھا۔ مگر افسوس کہ معمار اپنے اندر وہ ”حسن“ پیدا نہ کر سکے جو انھوں نے سنگِ مرمَر کے خاموش مجموعہ میں اپنی مہارت سے پیدا کر دیا تھا۔ آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو یہ خوبی ہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہوتی ہے۔ وہ دشمنوں میں بھی اپنے دوست پاللیتا ہے۔ اغیار کی صفوں میں بھی اس کو اپنے قدردان مل جاتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی کے اندر کوئی واقعی خوبی ہو، اس کے باوجود دنیا میں اس کا اعتراف نہ کیا جائے۔ تاہم اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا یہ حسن سانپ کا حسن نہ ہو۔ ایک سانپ خواہ وہ کتنا ہی حسین ہو آدمی اس سے محبت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جس آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کے اندر ایک خوبی تو ہو مگر اسی کے ساتھ اس کی زبان میں ”ڈَنک“ ہو، وہ لوگوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کو چیلنج کرنے لگے، وہ لوگوں کے ساتھ تعلقات میں بار بار جارحیت پر اتر آتا ہو، وہ اپنی جذباتی کاروائیوں سے لوگوں کو اپنا مخالف بنا لے۔ ایسا آدمی خواہ وہ کتنا ہی زیادہ خوبیوں والا ہو، لوگوں کا محبوب نہیں بن سکتا۔ تاج محل لوگوں کا محبوب اسی وقت بنتا ہے جب کہ وہ خاموش حسن میں ڈھل جائے۔ اگر وہ جارح حسن کا نمونہ ہوتا تو ایسے تاج محل کو کوئی نہیں بخشے گا۔ زندگی کی سڑک سڑکوں میں چوراہے ہوتے ہیں۔ یعنی ایسے مقامات جہاں پورب سے پچھم جانے والی سڑک پر ان مسافروں کے لیے راستہ جو اُتر سے دکهن یا دکھن سے اُتر جا رہے ہوں۔ ٹریفک قانون کے تحت یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک طرف کی سڑک بند کر کے دوسری طرف کی سڑک کھول دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے علامتی طور پر ہرا سگنل اور لال سگنل استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک گاڑی چلتے چلتے چوراہے پہنچتی ہے اور دیکھتی ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader