کام ہے، کام
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
کام ہے، کام کرنے والے نہیں مہاراشٹر کا ایک نوجوان رامیش دھوبی (22 سال) بے روزگاری سے سخت پریشان تھا۔ مایوسی نے اس کی زندگی اس کی نظر میں بے قیمت بنا دی تھی۔ آخر کار ایک روز وہ موہدی اسٹیشن پہنچا۔ ”میرے اس ہاتھ کی کیا ضرورت ہے جس کے لیے دنیا میں کوئی کام نہ ہو“ یہ احساس اس کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ اتنے میں اس کو ایک ٹرین آتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ ریلوے لائن کے کنارے کھڑا ہو گیا اور جیسے ہی ٹرین سامنے آئی اس نے اپنے دونوں ہاتھ پہیہ اور پٹری کے بیچ میں ڈال دئے ۔ انجام ظاہر تھا۔ اس کے دنوں ہاتھ کٹ کر اس کے جسم سے الگ ہو گئے۔ مسافروں نے جب اس کا حال دیکھا تو اس کو لے کر فوراً اسپتال پہنچے اور اس کو ڈاکٹروں کے حوالے کیا۔ رامیش دھوبی سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے جو جواب دیا وہ انگریزی رپورٹنگ (ٹائمز آف انڈیا 14 اگست 1981) میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: My hands are useless as I can find no work, and living is shameful without work. جب میرے لیے کوئی کام نہیں تو میرے ہاتھ بھی بے کار ہیں۔ کام کے بغیر زندگی رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اخبار کی یہ خبر میں نے پڑھ کر ختم کی تھی کہ ایک صاحب کمرہ میں داخل ہوئے۔ انھوں نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کافی کھیت ہیں اور نہر ہونے کی وجہ سے آب پاشی کا معقول انتظام ہے۔ محنت اور ذمہ داری کے ساتھ کام کیا جائے تو باآسانی ایک لاکھ روپیہ سالانہ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ اب تک میں خود کرتا رہا۔ مگر اب میرے پاس وقت نہیں۔ اور کوئی ایسا قابل اعتماد آدمی نہیں ملتا جس کے حوالے میں اپنا کام کر سکوں۔ اس لیے میں نے طے کیا ہے کہ میں اپنی زمینوں کو بیچ دوں۔ آج کی دنیا میں جس طرح بے شمار لوگ بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ اسی طرح یہ بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader