راز حیات
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
واقعہ ہے کہ بے شمار لوگ اس مسئلہ سے دوچار ہیں کہ ان کے پاس کام ہیں مگر ایسے آدمی نہیں جو سلیقہ کے ساتھ کام کو سنبھال سکیں۔ ان دونوں واقعات کو ملا کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں کام کی کمی نہیں بلکہ کام کرنے والوں کی کمی ہے۔ جولوگ بے روزگار ہیں اگر وہ اپنے اندر صرف دو صلاحیت پیدا کرلیں تو روزگار خود انھیں تلاش کرے گا، نہ کہ وہ روزگار کی تلاش میں ادھر اُدھر پھریں۔ وہ دو صلاحیتیں ہیں ۔ محنت اور دیانت داری۔ جتنا دینا اتنا پانا مسٹر جیت سنگھ لانبہ (پیدائش 1931) عکسی حافظہ (Photographic Memory) کے مالک ہیں۔ کسی چیز کو چند بار پڑھ لیں تو وہ ان کو یاد ہو جاتی ہے۔ 12 جون 1983 کو وہ ہمارے دفتر میں آئے تو الرسالہ کے کئی مضمون انھوں نے لفظ بلفظ زبانی سنا دیے۔ مسٹر لانبہ وزارت قانون میں ہیں اور دہلی میں کیرتی نگر میں رہتے ہیں۔ وہ اقبال کے شیدائی ہیں۔ اقبالیات کے موضوع سے انھیں خاصی دلچسپی ہے۔ اقبال کے ہزاروں اشعار ان کو زبانی یاد ہیں۔ اور اسی طرح ان کی زندگی کے حالات بھی۔ مسٹر جیت سنگھ لانبہ مئی 1983 میں پاکستان گئے۔ وہاں اقبالیات کے ماہر کی حیثیت سے ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ اس سلسلے میں ان کی ملاقات امیر حسین صاحب (لاہور) سے ہوئی۔ انھیں بھی اقبال کے اشعار کثرت سے یاد ہیں۔ انھوں نے مسٹر لانبہ کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر تم ثابت کردو کہ تم کو مجھ سے زیادہ اقبال کے اشعار یاد ہیں تو میں اپنی ہار مان لوں گا اور تم کو پانچ ہزار روپے انعام دوں گا۔ مسٹر لانبہ نے کہا: میں پچھلے دس سال سے شمع اقبال پر پروانے کی طرح رقص کر رہا ہوں تم مجھ سے زیادہ اقبال کا کلام اسی وقت پیش کر سکتے ہو جب کہ تم نے پروانہ بن کر شمع اقبال پر مجھ سے زیادہ رقص کیا ہو۔ چنانچہ مسٹر جیت سنگھ لانبہ مقابلہ میں جیت گئے۔ امیر حسین صاحب اقبال کی جس نظم کا مصرعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader