Urdu book · راز حیات

قدر دانی

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

معاشرے میں بڑے لوگ جوہر کی بنیاد پر افراد کی قدر دانی کریں وہاں افراد ترقی کریں گے اور جہاں ایسا ہو کہ وقت کے بڑے لوگ صرف اپنے حاضر باشوں اور خوشامد پرستوں کی قدر کرنا جانیں وہاں افراد کی صلاحیتیں مرجھا کر رہ جائیں گی۔ ایسا معاشرہ کبھی اعلیٰ ترقی تک نہیں پہنچ سکتا۔ ڈارون کی زندگی کا ایک اور واقعہ بہت سبق آموز ہے۔ ڈارون کے ساتھ ایک عجیب اتفاق پیش آیا۔ ڈارون نے 1852 میں طبعی انتخاب (Natural Selection) کے متعلق اپنے خیالات قلمبند کر لیے تھے۔ مگر ابھی اس کے چھپنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ جون 1858 میں اس کو الفریڈ ویلیس (Alfred Wallace) کا ایک خط موصول ہوا۔ اس خط میں اس نے اپنے ایک غیر مطبوعہ مقالہ کا ذکر کیا تھا۔ اس مقالہ میں اس نے عین وہی بات لکھی تھی جو ڈارون نے اپنے مقالہ میں لکھ رکھی تھی۔ ڈارون یہ کر سکتا تھا کہ اولیت کا کریڈٹ لینے کے لیے وہ فوراً اپنے مقالے کو شائع کر دے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ اپنے اور ویلیس کے خیالات کو ایک مشترکہ مقالہ کی صورت میں لندن کی سوسائٹی (Lennean Society) کے سامنے پیش کرے تا کہ یہ نیا نظریہ لوگوں کے سامنے زیادہ طاقت اور اہمیت کے ساتھ لایا جا سکے۔ چنانچہ 20 جون 1858 کو ارتقاء کا نظریہ ایک مشترکہ مقالہ کی صورت میں لندن کے اہل علم کے اجتماع کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور فوراً ہی اہمیت کا موضوع بن گیا۔ اجتماعی عمل ہمیشہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے، بشرطیکہ افراد اپنی انفرادی خواہشوں کو روکیں اور اجتماعی انداز میں کام کرنے کا حوصلہ کر سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page