Urdu book · راز حیات

قدر دانی

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

ہنسلو نہایت علم دوست اور وسیع الظرف آدمی تھے۔ ان سے تعلق ہی ڈارون کے لیے پہلا زینہ تھا جس نے اس کو علم کی دنیا میں چوٹی کے مقام پر پہنچادیا۔ اس زمانہ میں برطانوی حکومت نے اپنے بحریہ کے ایک خاص دخانی جہاز کو جس کا نام بیگل (Beagle) تھا تحقیقات کی مہم پر روانہ کیا۔ یہ جہاز بحر الکاہل اور اٹلانٹک کے ساحلی ملکوں کا پانچ سال (36-1831) تک سروے کرتا رہا۔ پروفیسر ہنسلو نے اپنے ذاتی اثرات سے کام لے کر ڈارون کو اس جہاز میں جگہ دلا دی۔ ڈارون اس جہاز میں تاریخ طبیعی کے عالم (Naturalist) کے طور پر مقرر کر دیا گیا۔ اس طرح اس کو موقع مل گیا کہ دنیا کے مختلف حصوں کا عملی مشاہدہ کر سکے۔ ڈارون اس وقت بطور خود بیگل میں جگہ نہیں حاصل کر سکتا تھا۔ یہ صرف پروفیسر ہنسلو تھے جنھوں نے نوجوان ڈارون کی صلاحیت کو پہچانا اور اس کو اس تاریخی کشتی میں سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس پانچ سالہ مدت میں ڈارون نے مختلف ملکوں کو دیکھا اور ساحل پر واقع جنگلوں اور پہاڑوں کے سفر کیے۔ کہیں پیدل اور کہیں گھوڑے پر وہ میلوں تک اندر گیا اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کیا اور ان کے نمونے جمع کیے۔ ساتھ ہی اس نے پتھروں میں محفوظ مختلف جانداروں کے باقیات (Fossils) کا ذخیرہ بھی اکٹھا کیا۔ اس سفر کے مشاہدات سے اس نے بہت سے نظریات قائم کیے۔ مثلاً یہ کہ مختلف اقسام کے جانور ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود بہت سے پہلوؤں سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ کوئی جاندار جس ماحول میں رہتا ہے وہ اس ماحول کا مناسبت سے اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے وغیرہ۔ بنیادی طور پر یہی وہ مشاہدات تھے جو مزید مطالعہ کے بعد ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی صورت میں ڈھل گئے۔ راقم الحروف ذاتی طور پر ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو سراسر وہم سمجھتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ڈارون کی زندگی میں یہ سبق ہے کہ ”بڑوں“ کی قدر دانی کس طرح ”چھوٹوں“ کو آگے بڑھاتی ہے اور ان کی صلاحیت کو نمایاں ہونے کا موقع دیتی ہے۔ جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page