Urdu book · راز حیات

تعمیر کی فتح

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیر کی فتح صبح کو وہ سو کر اُٹھا تو کمرہ میں چڑیا کا انڈ ٹوٹا ہوا پڑا تھا۔ یہ گوری کا انڈ اتھا جس نے چھت کی لکڑی میں ایک گوشہ پا کر وہاں اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا۔ اس گھونسلے کی وجہ سے کمرہ میں ہر وقت چڑیوں کا شور رہتا۔ تنکے گرتے رہتے۔ آدمی نے فرش پر ٹوٹا ہوا انڈہ دیکھا تو اس نے گھونسلا اجاڑ کر پھینک دیا۔ اگلے دن پھر وہی ’’چوں چوں‘‘ کا شور تھا۔ چڑیاں دوبارہ چھت کی لکڑی میں تنکے جمع کر رہی تھیں۔ شاید اجڑے ہوئے گھونسلے کو دوبارہ بنا یا د دیکھنے کے جذبہ نے ان کے اندر عمل کا شوق بڑھا دیا تھا۔ اس جسارت پر اس کو غصہ آیا اور اس نے دوبارہ ان کا گھونسلا اجاڑ کر پھینک دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے چڑیوں کے اوپر آخری طور پر فتح پا لی ہے۔ مگر اگلے دن پھر گھونسلے کا مسئلہ اس کے سر پر موجود تھا۔ چڑیوں نے جب دیکھا کہ ان کا بنایا گھونسلا اجاڑ دیا گیا ہے اور انڈے توڑے جا چکے ہیں تو انھوں نے رونے میں یا فریاد کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ انھوں نے ایسا بھی نہیں کیا کہ باہر جا کر دوسری ہم جنس چڑیوں کو ڈھونڈیں اور ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر گھر پر حملہ کریں۔ اس کے برعکس وہ خاموشی سے باہر نکل گئیں اور ایک ایک تنکا لا کر دوبارہ گھونسلا بنانا شروع کر دیا۔ اب یہی روزانہ کا قصہ ہو گیا۔ چڑیاں روزانہ گھونسلا بنانا شروع کرتیں اور آدمی روزانہ اس کو اجاڑ دیتا۔ اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا۔ اس دوران میں کتنی ہی بار چڑیوں کی محنت ضائع ہوئی۔ ان کے چنے ہوئے تنکے بیکار ہو گئے۔ مگر چڑیاں ان چیزوں سے بے پروا ہو کر اپنا کام کیے جا رہی تھیں۔ آدمی کی نفرت کا جواب چڑیوں کے پاس صرف خاموش عمل تھا۔ آدمی کی تخریب کا مقابلہ ہر بار وہ نئی تعمیر سے کرتی تھیں۔ چڑیوں کا دشمن طاقت ور تھا مگر طاقت ور دشمن کا توڑا انھوں نے اپنے لگا تار عمل میں ڈھونڈ لیا تھا۔ آخر نفرت پر خاموش عمل غالب آیا۔ چڑیوں کی مسلسل تعمیر نے آدمی کی مسلسل تخریب پر فتح پائی۔ ایک مہینہ کے ناکام مقابلہ کے بعد آدمی تھک چکا تھا۔ اس نے چڑیوں کا گھونسلا اجاڑنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page