Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوڑ دیا۔ اب گوریا نے اپنے گھونسلے کو مکمل کر کے پھر اس میں انڈے دے دیے ہیں۔ وہ ان کو سینے میں مشغول ہے تا کہ وہ اپنی اگلی نسل پیدا کرے اور پھر اپنا کام کر کے اڑ جائے۔ جب یہ چڑیاں اپنے گھونسلے میں جمع ہوتی ہیں تو ان کا ”چوں چوں“ کا شور اب بھی کمرہ میں گونجتا ہے۔ مگر اب آدمی کو یہ شور برا نہیں لگتا کیونکہ ”چوں چوں“ کی آواز میں اس کو یہ قیمتی پیغام سنائی دیتا ہے۔ اپنے دشمن سے نفرت نہ کرو۔ ہر حال میں اپنی تعمیری جدوجہد میں لگے رہو۔ تم کامیاب ہوگے۔ محنت کا ذریعہ جوزف کانریڈ (Joseph Conrad) پولینڈ کے ایک شہر برڈک زیو (Berdiczew) میں 1857 میں پیدا ہوا۔ وہ بچپن ہی میں یتیم ہو گیا۔ اپنی زندگی کے ابتدائی زمانہ میں اس کو ملاحی کے ذریعہ اپنی معاش فراہم کرنی پڑی۔ اس کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہوسکی۔ مختلف ملکوں میں سفر کرتا ہوا بالآخر وہ انگلستان پہنچا۔ اور 1886 میں اس نے برطانوی شہریت حاصل کرلی۔ برطانیہ کے زمانہ قیام میں اس نے انگریزی سیکھنے کے لیے غیر معمولی محنت کی۔ یہاں تک کہ وہ انگریزی زبان کا مستند ادیب بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے زمانہ میں انگلستان کے زندہ مصنفین میں اس کی شہرت ہارڈی (Hardy) کے بعد صرف نمبر 2 پر تھی۔ اس کی کتاب لارڈ جم (Lord Jim) میں اس کے جو حالات چھپے ہیں اس میں اس کے بارے میں یہ جملہ درج ہے— اس نے انگریزی زبان میں صاحب طرز ادیب کا نام حاصل کیا اگرچہ 19 سال کی عمر تک اس کا یہ حال تھا کہ وہ انگریزی کا ایک لفظ نہ بول سکتا تھا: He made his name as a stylist in English although he was unable to speak a word of the language before he was nineteen. جوزف کانریڈ کی دو درج سے اوپر کتابیں ہیں جو زیادہ تر ناول یا کہانی کے پیرایہ میں ہیں۔ انگریزی اگرچہ اس کی مادری زبان نہ تھی، مگر اس کی انگریزی کتابیں یونی ورسٹیوں کے تعلیمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page