Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بظاہر وقت پر سفر کرنا انتہائی دشوار تھا۔ مگر اس نے رات دن ایک کر کے سارا کام پورا کر لیا اور ٹھیک تاریخ پر وہ ہوائی جہاز پر بیٹھ کر مطلوبہ ملک کو پرواز کر رہا تھا۔ دوسری طرف اسی قسم کا موقع ایک اور شخص کے لیے پیدا ہوا۔ وہ شہر سے دور دیہات میں تھا، اس نے اپنے ایک رشتہ دار کو جو شہر میں رہتے تھے، خط لکھا کہ میرے لیے شہر میں آنا مشکل ہے۔ آپ میرا یہ کام کرا دیجئے اور اس سلسلہ میں جو پیسہ خرچ ہوگا۔ وہ سب میرے ذمہ ہو گا۔ رشتہ دار نے جواب دیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا۔ مذکورہ شخص ان کے اطمینان پر رہ گیا۔ اس کے پاس پورے دو مہینے کا وقت تھا مگر اس کا کوئی کام نہیں ہوا اور وہ باہر نہ جا سکا۔ آخر میں مذکورہ رشتہ دار کا پیغام ملا کہ فلاں وجہ پیش آگئی اس وجہ سے میں تمہارا کام نہ کر سکا۔ یہ زبانی پیغام تاخیر سے اس وقت پہنچا جب کہ وقت گزر چکا تھا۔ پہلے شخص نے اپنا کام سمجھ کر دلچسپی لی تو اس نے کم وقت کے باوجود کام کو پورا کر لیا۔ دوسرے شخص نے اپنے کام کی طرح دل چسپی نہیں لی اس لیے معمولی باتیں اس کے لیے عذر بن گئیں اور زیادہ وقت کے باوجود کام کو انجام نہ دے سکا۔ آدمی کو جب کام کا شوق ہو تو اس کی عقل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ مقصد کو حاصل کرنے کی تڑپ اس کے قوت عمل کو بڑھا دیتی ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنوں میں وہ کام کر لیتا ہے جس کو دوسرا شخص ہفتوں اور مہینوں میں بھی نہ کر سکے۔ ایک تاثر 20 جنوری 1986 کو میں انڈین ائیرلائنس کی فلائٹ نمبر 439 کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد گیا۔ جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے تواناونسر نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا: Captain Mustafa is in command.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page