ایک وراثت یہ بھی ہے
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چاروں نے الگ الگ اپنے مکانات بنا لیے ہیں۔ مگر رحیم بخش اب بھی اسی طرح سب کے بڑے بھائی“ ہیں جیسے وہ پہلے بڑے بھائی تھے۔ ایک بھائی جو بات کہہ دے اس کو دوسرا بھائی کبھی نہیں ٹالتا۔ ایک گھر میں کوئی ضرورت پیش آجاۓ تو چاروں گھروں کی عورتیں اور بچے مل کر اس کو اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ ہر ایک کا اپنا کام ہو۔ اکثر باپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لیے سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے مال اور جائیداد چھوڑ کر اس دنیا سے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ خوش نصیب اولاد وہ ہے جس کے باپ نے اس کے لیے با اصول زندگی کی وراثت چھوڑی ہو۔ وہ اپنی اولاد کو یہ سبق دے کر دنیا سے گیا ہو کہ اپنی محنت پر بھروسہ کرو، لوگوں سے الجھے بغیر اپنا کام کرو۔ اپنے واجبی حق پر قناعت کرو۔ حال کے فائدوں سے زیادہ مستقبل کے امکانات پر نظر رکھو۔ خوش خیالیوں میں گم ہونے کے بجاۓ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ مادی وراثت سے زیادہ بڑی چیز اخلاقی وراثت ہے۔ مگر بہت کم باپ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ اس کو اسکول سے خارج کردیا گیا تھا پروفیسر البرٹ آئن سٹائن (1955-1879) نے 20 ویں صدی کی سائنس میں عظیم انقلاب برپا کیا۔ مگر اس کی زندگی کا آغاز نہایت معمولی تھا۔ تین سال کی عمر تک وہ بولنا شروع نہ کرسکا۔ بظاہر وہ ایک معمولی باپ کا معمولی بچہ تھا۔ نو سال کی عمر تک وہ بالکل عام بچہ دکھائی دیتا تھا۔ اسکول کی تعلیم کے زمانہ میں ایک بار وہ اسکول سے خارج کردیا گیا۔ کیوں کہ اس کے استادوں کا خیال تھا کہ اپنی تعلیمی نااہلی کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں پر برا اثر ڈالتا ہے۔ زیورک کے پولی ٹیکنیک میں اس کو پہلی بار داخلہ نہ مل سکا کیوں کہ آزمائشی امتحان میں اس کے نمبر بہت کم تھے ۔ چنانچہ اس نے مزید تیاری کرکے اگلے سال داخلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader