ایک وراثت یہ بھی ہے
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
لیا۔ اس کے ایک استاد نے اس کے بارے میں کہا: Albert was a lazy dog. البرٹ ایک سست کتا تھا۔ 20 سال کی عمر تک البرٹ آئن سٹائن میں کوئی غیر معمولی آثار نظر نہ آتے تھے۔ مگر اس کے بعد اس نے محنت شروع کی تو وہ اس بلندی تک پہنچا جو موجودہ زمانہ میں بمشکل کسی دوسرے سائنس دان کو حاصل ہوئی۔ اس بنا پر اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے: We could take heart that it is not necessary to be a good student to become Einstein. ہم کو جاننا چاہیے کہ آئن سٹائن بننے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی طالب علمی کے زمانہ میں ممتاز رہا ہو۔ آئن سٹائن نے اپنی پہلی سائنسی کتاب اس وقت شائع کی جب کہ اس کی عمر 26 سال تھی۔ اس کے بعد سے اس کی شہرت بڑھتی ہی چلی گئی۔ آئن سٹائن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ وہ نہایت سادہ غذا کھاتا تھا۔ وہ اکثر آدھی رات تک اپنے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کو اسرائیل کی صدارت پیش کی گئی تھی مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاست انسانیت کا کینسر ہے۔ 1933 میں اس نے ہٹلر کے جرمنی کو چھوڑ دیا تھا۔ ہٹلر کی حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص آئن سٹائن کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو 20 ہزار مارک انعام دیا جائے گا۔ اس زمانہ میں یہ رقم بہت زیادہ تھی مگر آئن سٹائن کی عظمت لوگوں کے دلوں میں اتنی قائم ہو چکی تھی کہ کوئی اس انعام کو حاصل کرنے کی جرات نہ کر سکا۔ (17 اکتوبر 1979) تاریخ میں اس طرح کی بہت مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لیے بڑا بچہ پیدا ہونا ضروری نہیں۔ معمولی حیثیت سے آغاز کر کے آدمی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ جدوجہد کی شرطوں کو پورا کرے ۔ بلکہ وہ لوگ زیادہ خوش قسمت ہیں جن کو مشکل مواقع میں زندگی کا ثبوت دینا پڑے۔ کیونکہ مشکل حالات عمل کا محرک ہوتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader