Urdu book · راز حیات

بیس سال بعد

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

سے معاہدہ کر رہا ہے۔ شاگرد اس قابل ہو گیا ہے کہ اپنے استاد کو سبق دے سکے۔ جاپان کے اس تجربہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک اخباری مبصر (ہندوستان ٹائمز 11 جون 1981) نے لکھا ہے ٹیکنالوجی کا بہاؤ پہلے جاپان کے اندر تھا، اب اس کا بہاؤ جاپان کے باہر ہے۔ Now the flow is out instead of in. جاپان 20 سال تک صنعتی مغلوبیت پر راضی رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس کو صنعتی غلبہ کا مقام حاصل ہو گیا۔ اگر وہ اول دن سے غلبہ پر اصرار کرتا تو اس کے حصہ میں صرف یہ آتا کہ اس کی مغلوبیت کبھی ختم نہ ہو۔ ہر پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ہر بلندی کے لیے کچھ پستی کو گوارا کرنا ہوتا ہے۔ یہی دنیا کا قانون ہے۔ جو لوگ دنیا کے اس قانون کے ساتھ موافقت کریں وہی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ اس قانون کے ساتھ موافقت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ ان کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ وہ ناکام ہو کر رہ جائیں اور اس کے بعد بے فائدہ طور پر دوسروں کو اپنی بربادی کا جھوٹا الزام دیتے رہیں۔ بے کاری قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي لَأَرَى الرَّجُلَ، فَيُعْجِبُنِي، فَأَقُولُ: هَلْ لَهُ حِرْفَةٌ؟ فَإِنْ قَالُوا : لَا؛ سَقَطَ مِنْ عَيْنِي. (المجالسة وجواهر العلم للدينوري، حديث نمبر 3005) یعنی حضرت عمر فرماتے تھے کہ میں کسی آدمی کو دیکھتا ہوں اور وہ مجھے پسند آتا ہے مگر جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتا تو وہ میری نگاہوں سے گر جاتا ہے۔ یہی روایت ابن الجوزی نے تلبیس ابلیس میں ان الفاظ میں نقل کی ہے: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ بلغني أن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي الله عنه كان إذا رأى غلاما فأعجبه سأل عنه هل له حرفة فإن قيل لا قَالَ سَقَطَ مِنْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page