Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

عینیی۔ (تلبيس ابلیس، جلد 1، صفحه 252) یعنی محمد بن عاصم کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر جب کسی نوجوان کو دیکھتے اور وہ انھیں اچھا معلوم ہوتا تو پوچھتے کیا اس کا کوئی کام ہے۔ اگر کہا جاتا کہ نہیں تو وہ ان کی نگاہ سے گر جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بے کاری نہایت بری چیز ہے وہ آدمی کی تمام بہترین صلاحیتوں کو کھا جاتی ہے۔ بے کار آدمی بظاہر دیکھنے میں زندہ معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتہ وہ ایک مرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ اس کے اندر سے وہ تمام لطیف احساسات ختم ہوجاتے ہیں جو کسی انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں۔ بے کاری کی ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی محنت اور مشقت کی چیزوں سے گھبراتا ہے اور اس کے اندر یہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی کہ کوئی بے مشقت کا کام اسے مل جائے۔ چنانچہ وہ اپنے پسندیدہ کام کے انتظار میں بے کار پڑا رہتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی کو وراثت میں یا اور کسی اتفاقی سبب سے ایسے ذرائع معاش حاصل ہو جائیں جن کے لیے اس نے کوئی ذاتی کسب نہیں کیا تھا۔ مثلاً بنک میں جمع شدہ رقم۔ یا جائیداد جس کی آمدنی یا کرایہ اس کو اپنے آپ ہر ماہ ملتا رہے۔ اس قسم کی ہر صورت بے کاری کی صورت ہے اور وہ آدمی کے لیے قاتل ہے، خواہ بظاہر وہ خوش پوش ہوا اور چلتا پھرتا نظر آتا ہو۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے کوئی جائز کام اختیار کرے اور صبح شام اپنے آپ کو اس میں مشغول رکھے۔ جس کے پاس کام کی مشغولیت نہیں اس کے پاس زندگی بھی نہیں۔ بے کار آدمی کو کبھی بھی آپ اعلیٰ انسان نہیں پائیں گے۔ بڑی کامیابی انگریزی کے ایک شاعر نے کہا ہے ”جس شخص کو دنیا میں بڑا آدمی بننا ہوتا ہے وہ اس وقت کام میں مصروف رہتا ہے جس وقت عام لوگ سورہے ہوتے ہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ ایسا آدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page