Urdu book · راز حیات

پیسے سے

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

25 پیسے سے شام کا وقت تھا۔ بارہ سال کا بچہ اپنے گھر میں داخل ہوا، اس کو بھوک لگ رہی تھی۔ وہ اس امید میں تیز تیز چل کر آ رہا تھا کہ گھر پہنچ کر کھانا کھاؤں گا اور پیٹ کی آگ بجھاؤں گا۔ مگر جب اس نے اپنی ماں سے کھانا مانگا تو جواب ملا ”اس وقت گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ بچہ کا باپ ایک غریب آدمی تھا۔ وہ محنت کر کے معمولی کمائی کرتا تھا۔ روزانہ کمانا اور روزانہ دکان سے سامان لا کر پیٹ بھرنا یہ اس کی زندگی تھی تاہم ایسا بھی ہوتا کہ کسی دن کوئی کمائی نہ ہوتی اور باپ خالی ہاتھ گھر واپس آتا۔ یہ ان کے لیے فاقہ کا دن ہوتا تھا۔ اس خاندان کی معاشیات کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ تھا: ”کام مل گیا تو روزی، کام نہیں ملا تو روزہ“۔ ماں کا جواب سن کر بچہ کو بڑا صدمہ ہوا ”مجھے بھوک لگ رہی ہے اور میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں“۔ وہ چپ ہو کر دیر تک سوچتا رہا۔ اس کے بعد بولا ”کیا تمہارے پاس 25 پیسے بھی نہیں ہیں“۔ ماں نے بتایا کہ 25 پیسے اس کے پاس موجود ہیں ”اچھا تو لاؤ 25 پیسے مجھے دو“۔ بچے نے کہا۔ اس نے اپنی ماں سے 25 پیسے لیے۔ اس کے بعد ایک بالٹی میں پانی بھرا۔ دو گلاس لیے۔ 25 پیسے کا برف لے کر بالٹی میں ڈالا اور سیدھا سینما ہاؤس پہنچا۔ یہ گرمی کا زمانہ تھا جب کہ ہر آدمی پانی پینے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ وہاں اس نے آواز لگا کر ”ٹھنڈا پانی“ بیچنا شروع کیا۔ اس کا پانی تیزی سے بکنے لگا۔ کئی لوگوں نے بچہ سمجھ کر زیادہ پیسے دیے۔ آخر میں جب وہ خالی بالٹی میں گلاس ڈال کر واپس پہنچا تو اس کے پاس پندرہ روپے ہو چکے تھے۔ اب بچہ روزانہ ایسا ہی کرنے لگا۔ دن کو وہ اسکول میں محنت سے پڑھتا اور شام کو پانی یا اور کوئی چیز بیچ کر کمائی کرتا۔ اسی طرح وہ دس سال تک کرتا رہا، ایک طرف وہ گھر کا ضروری کام چلاتا رہا دوسری طرف اپنی تعلیم کو مکمل کرتا رہا۔ آج یہ حال ہے کہ اس لڑکے نے تعلیم پوری کر کے ملازمت کر لی ہے۔ اس کو تنخواہ سے ساڑھے سات سو روپے مہینہ مل جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ”شام کا کاروبار“ بھی وہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے چھوٹے سے خاندان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page