Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ اس کی زندگی بڑی عافیت سے گزر رہی ہے۔ اس کی محنت کی کمائی میں اللہ نے اتنی برکت دی کہ اپنا آبائی ٹوٹا پھوٹا مکان اس نے از سر نو بنوالیا۔ سارے محلہ والے اس کی عزت کرتے ہیں ماں باپ کی دعائیں ہر وقت اس کو مل رہی ہیں۔ مشکل حالات آدمی کے لیے ترقی کا زینہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ مشکل حالات آدمی کو پست ہمت نہ کریں بلکہ اس کے اندر نیا عزم پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ زندگی میں اصل اہمیت ہمیشہ صحیح آغاز کی ہوتی ہے۔ اگر آدمی اتنے پیچھے سے سفر شروع کرنے پر راضی ہو جائے جہاں سے ہر قدم اٹھانا آگے بڑھنا ہو تو کوئی بھی چیز اس کو کامیابی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔ "25 پیسے" سے سفر شروع کیجئے ۔ کیوں کہ "25 پیسے" سے سفر شروع کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے اور جو سفر "25 پیسے" سے شروع کیا جائے وہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔ اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص اس بات کو نہیں مانتا تھا کہ خدا رازق ہے اور وہی آدمی کو کھلاتا ہے۔ اس کے ساتھی اس کو سمجھاتے مگر وہ نہ مانتا۔ آخر اس نے کہا کہ میں اس کا تجربہ کروں گا۔ چنانچہ ایک روز وہ بالکل سویرے گھر سے نکلا اور جنگل میں جا کر ایک درخت کے اوپر بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: اگر کھلانے والا خدا ہے تو وہ ضرور یہاں بھی میرا رزق بھیجے گا۔ وہ سارا دن پیڑ پر بیٹھا رہا مگر خدا کی طرف سے اس کا کھانا نہ آیا۔ صبح ناشتہ کا وقت گزرا۔ پھر دوپہر کے کھانے کا وقت گزر گیا۔ اس کے بعد شام آئی اور شام کے کھانے کا وقت بھی گزر گیا اور اس کا کھانا نہ آیا۔ اب اس کو یقین ہو گیا کہ یہ بات غلط ہے کہ خدا کھلاتਾ ہے۔ اتنے میں اس کو کچھ آدمی آتے ہوئے نظر آئے ۔ وہ مسافر تھے اور انھیں کسی درخت کی تلاش تھی جس کے نیچے وہ رات گزار سکیں۔ انھوں نے ادھر اُدھر دیکھنے کے بعد اسی درخت کو پسند کیا جس کے اوپر مذکورہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page