Urdu book · راز حیات

اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی نے بالکل خاموشی اختیار کر لی کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ مسافروں نے پڑاؤ ڈالنے کے بعد لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اپنی گٹھری کھولی اور چاول دال نکال کر کھچڑی پکانے لگے۔ جب کھچڑی تیار ہوگئی تو انھوں نے سوچا کہ اس کو بگھار بھی دے دیں۔ تیل میں مرچ ڈال کر جب انھوں نے گرم کیا تو اس کا دھواں اوپر اٹھا اور درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی تک پہنچا۔ اس کی وجہ سے اس کو چھینک اور کھانسی آ گئی۔ کھانسی کی آواز سن کر مسافروں کو معلوم ہوا کہ درخت کے اوپر بھی کوئی آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ انھوں نے اس کو آواز دے کر بلایا اور اس کو درخت سے اتار کر اپنے کھانے میں شریک کر لیا۔ صبح کو آدمی خوشی خوشی اپنے گھر واپس آیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم نے جو بات کہی وہ صحیح تھی۔ مگر تم لوگوں نے آدھی بات بتائی۔ بے شک خدا کھلاتا ہے مگر وہ کھانسی آنے کے بعد کھلاتਾ ہے۔ اس لطیفہ میں تمثیل کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ آدمی جو کچھ پاتا ہے وہ خدا کے دیے سے پاتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اسے اپنا بھی ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ خدا اسی کو دیتا ہے جو خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شریک کرے ۔ انسان کی شرکت اگر چہ پورے واقعہ کا بے حد جزئی حصہ ہوتی ہے۔ مگر وہ بہر حال ضروری ہے۔ اس دنیا میں آدمی اس کا ثبوت دیے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔ یہی دینا تو پانے کا امتحان ہے۔ اسی شرط پر پانے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ پھر اپنی طرف سے دینے کی شرط پوری کی بغیر کوئی شخص خدا کے یہاں پانے والوں کی فہرست میں کس طرح شامل ہو سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page