راز حیات
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
بولنا سکھایا۔ اس کے مقصد نے اس کو بتایا کہ کس طرح وہ ماضی کو بھلا دے اور تمام جھگڑوں اور شکایتوں کو یک طرفہ طور پر دفن کر دے تا کہ اس کے مقصد تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ با مقصد گروہ کی نفسیات ہمیشہ یہی ہوتی ہے۔ خواہ اس کے سامنے تجارتی مقصد ہو یا کوئی دوسرا مقصد۔ اور جب کوئی گروہ یہ صفات کھو دے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس گروہ نے مقصدیت کھودی ہے۔ اس کے سامنے جوں کہ کوئی مقصد نہیں اس لیے اس کے افراد کا کوئی کردار بھی نہیں۔ موجودہ زمانہ میں ہماری قوم کی سب سے بڑی کمزوری اس کی بے کردیاری ہے۔ جس میدان میں بھی تجربہ کیجئے۔ آپ فورا ً دیکھیں گے کہ لوگوں نے اپنا کردار کھو دیا ہے۔ ان کے اوپر کسی ٹھوس منصوبہ کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ جہاں بھی انہیں استعمال کیا جائے وہ دیوار کی کچی اینٹ ثابت ہوتے ہیں۔ وہ دیوار کی پختہ اینٹ ہونے کا ثبوت نہیں دیتے۔ اس کمزوری کی اصل وجہ یہی ہے کہ آج ہماری ساری قوم نے مقصد کا شعور کھو دیا ہے۔ وہ ایک بے مقصد گروہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے سامنے نہ دنیا کی تعمیر کا نشانہ ہے اور نہ آخرت کی تعمیر کا نشانہ۔ یہی ان کی اصل کمزوری ہے۔ اگر لوگوں میں دوبارہ مقصد کا شعور زندہ کر دیا جائے تو دوبارہ وہ ایک جاندار قوم نظر آئیں گے۔ وہ دوبارہ ایک با کردار گروہ بن جائیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ایک با کردار گروہ بنے ہوئے تھے۔ قوم کے افراد کے اندر مقصد کا شعور پیدا کرنا ان کے اندر سب کچھ پیدا کرنا ہے۔ مقصد آدمی کی چھپی ہوئی قوتوں کو جگا دیتا ہے، وہ اس کو نیا انسان بنا دیتا ہے۔ ساراخون پروفیسر پال ڈیراک (Paul Dirac) 1902ء میں پیدا ہوئے۔ اکتوبر 1984 میں انہوں نے 82 سال کی عمر میں فلوریڈا میں وفات پائی۔ وہ جدید دور میں نیوٹن اور آئن سٹائن کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader