مقصدیت
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
جاپان اور چین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے مطابق جاپان کو چین میں ایک اسٹیل مل قائم کرنا تھا مگر معاہدہ کی تکمیل کے بعد چینی حکومت نے اچانک اس کو منسوخ کر دیا۔ چین کے نئے وزیر اعظم ڈینگ زاپنگ (Deng Xiaoping) نے حال میں اشتراکی انتہا پسندی کو ختم کیا اور کھلے دروازے (Open Door) کی پالیسی اختیار کی تو جاپان کے لیے دوبارہ موقع مل گیا۔ چنانچہ آج کل جاپان نے چین میں زبردست یورش کر رکھی ہے۔ آپ اگر جاپان سے چین جانا چاہیں تو آپ کو ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ تین ماہ پیشگی بک کرانی ہوگی۔ جاپان سے چین جانے والے ہر جہاز کی ایک ایک سیٹ بھری ہوئی ہوتی ہے۔ چین میں تجارت کے زبردست امکانات ہیں۔ جاپان چاہتا ہے کہ ان تجارتی امکانات کو بھر پور استعمال کرے۔ اس مقصد کے لیے جاپان نے یک لخت طور پر ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا دیا۔ ایک سیاح کے الفاظ میں جاپان نے طے کر لیا کہ وہ چین کی طرف سے پیش آنے والی ہر ایذارسانی (Pinpricks) کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے گا۔ مذکورہ سیاح نے لکھا ہے کہ میرے قیام ٹوکیو (جون 1985) کے زمانہ میں ریڈیو بیجنگ نے اعلان کیا کہ چین ایک میوزیم بنائے گا جس میں تصویروں کے ذریعہ دکھایا جائے گا کہ جاپانیوں نے چینیوں کے اوپر ماضی میں کیا کیا مظالم کیے ہیں۔ اس میوزیم کا افتتاح 1987 میں ہوگا جب کہ مارکو پولو کے حادثہ کو 50 سال پورے ہو جائیں گے۔ جاپانیوں سے اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کی۔ جب زیادہ زور دیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: You know, our Chinese friends have a way of twisting our tails, and appealing to our conscience. آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے چینی دوستوں کا مہمیز لگانے کا طریقہ ہے۔ وہ ہمارے ضمیر کو متوجہ کر رہے ہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا 13 جون 1985) جاپان کے سامنے ایک مقصد تھا۔ یعنی اپنی تجارت کو فروغ دینا۔ اس مقصد نے جاپان کے اندر کردار پیدا کیا۔ اس کے مقصد نے اس کو حکمت، برداشت، اعراض کرنا اور صرف بقدر ضرورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader