Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

بالآخر وہ وقت آیا کہ انھوں نے طبی کالج سے ڈاکٹری کی سند حاصل کرلی۔ اب انھوں نے مسجد والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امامت سے استعفیٰ دے دیا اور شہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ کرایہ پر لے کر اپنا مطب کھول لیا۔ ان کی زندگی کے تلخ تجربات اور مستقبل کی خاطر ان کی طویل جدوجہد نے ان کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ انھوں نے نہایت محنت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنا مطب چلایا۔ صرف چھ ماہ بعد ان کی آمدنی اتنی ہوگئی کہ ایک مکان لے کر وہ بچوں کے ساتھ ب فراغت رہنے لگے۔ ایک سال کے بعد انھیں مقامی طبی کالج میں لیکچرار کی جگہ بھی مل گئی۔ اس طرح ان کی معاشی زندگی میں مزید استحکام پیدا ہوگیا۔ کل کے ملاجی اب ڈاکٹر صاحب بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو عزت بھی حاصل ہے اور معاشی فارغ البالی بھی۔ زندگی کے ناموافق حالات زندگی کے نئے زینے ہوتے ہیں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ناموافق حالات سے نفرت اور شکایت کا سبق نہ لے۔ بلکہ مثبت ذہن کے تحت اپنے لیے نیا مستقبل بنانے میں لگ جائے۔ بہتر منصوبہ بندی سے ایڈمرل ایس۔ این کوہلی (ہندوستانی بحریہ کے سابق چیف) نے نئی دہلی کی ایک تقریر میں کہا کہ کامیابی تمام تر ایک ذہنی چیز ہے۔ اگر آپ کے اندر ارادہ ہے تو آپ اپنے مقصد کی تکمیل کے راستے پالیں گے ۔ اور اگر ارادہ نہیں ہے تو آپ یہ کہہ کر بیٹھ جائیں گے کہ "یہ نہیں ہوسکتا" انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہند۔ پاک جنگ (دسمبر 1971) میں ہندوستانی بحریہ کے پاس جو جنگی جہاز تھے وہ بنیادی طور پر دفاعی کارکردگی (Defensive Role) کے لیے بنائے گئے تھے۔ مگر انھیں جہازوں کو ہم نے اقدامی کاروائی کے لیے استعمال کیا۔ ہم نے کراچی بندرگاہ پر حملہ کیا اور اس میں اتنی شان دار کامیابی حاصل کی کہ فریق ثانی حیران ہو کر رہ گیا۔ اس کامیابی کی وجہ یہ نہ تھی کہ ہم بہتر سازوسامان سے آراستہ تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page