راز حیات
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
دستیاب ساز و سامان کو ہوشیاری کے ساتھ استعمال کیا گیا: Only that the available equipment was intelligently used. ایڈمرل کوہلی نے جو اصول بتایا وہی اصول فرد کے لیے بھی ہے اور وہی قوم کے لیے بھی۔ کامیابی کا راز ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر اپنے مقصد کے حصول کا پختہ ارادہ ہو اور اس کے بعد وہ یہ کرے کہ اس کے پاس جو وسائل موجود ہیں ان کو پوری احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ اپنے مقصد کو بروئے کار لانے میں لگا دے۔ انسان کی ناکامی کا راز بیشتر حالات میں یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس وسائل نہ تھے۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ممکن وسائل کو صحیح طور پر استعمال نہ کر سکا۔ دیہات میں ایک صاحب نے پختہ گھر بنانے کا ارادہ کیا۔ ان کے وسائل محدود تھے۔ مگر انھوں نے اپنے تعمیری منصوبہ میں اس کا لحاظ نہیں کیا۔ انھوں نے پورے مکان کی نہایت گہری بنیاد کھد وائی، اتنی گہری جیسے کہ وہ قلعہ تیار کرنے جا رہے ہوں۔ ایک شخص نے دیکھ کر کہا: مجھے امید نہیں کہ ان کا گھر مکمل ہو سکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کی بیشتر اینٹ اور مسالا بنیاد میں کھپ گیا اور اوپر کی تعمیر کے لیے ان کے پاس بہت کم سامان رہ گیا۔ بمشکل دیواریں کھڑی ہو سکیں اور ان پر چھت نہ ڈالی جا سکی۔ صرف ایک کمرہ پر کسی طرح چھت ڈال کر انھوں نے اپنے رہنے کا انتظام کیا۔ غیر ضروری طور پر گہری بنیادوں میں اگر وہ اینٹ اور مسالہ ضائع نہ کرتے تو ان کے پاس اتنا سامان تھا کہ مکان پوری طرح مکمل ہو جاتا۔ مگر غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے ان کا مکان زمین کے اندر تو پورا بن گیا۔ مگر زمین کے اوپر صرف ادھورا ڈھانچہ کھڑا رہ گیا۔ ناکامی کا سبب لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک گیم (جولائی۔ اگست 1984) میں ہندوستان سے حصہ لینے والوں کا جو دستہ گیا تھا اس میں کل 62 افراد تھے۔ کھیل کے خاتمہ پر یہ لوگ واپس ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader