ناکامی کا سبب
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
جرٹ کا کام جارج برنارڈ شا انگریزی زبان کا مشہور ادیب اور مفکر ہے۔ اس نے شیکسپیئر سے اپنا مقابلہ کرتے ہوئے کہا ہے: He was a much taller man than me, but I stand on his shoulders. وہ مجھ سے بہت زیادہ لمبا انسان تھا مگر میں اس کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔ برنارڈ شا، شیکسپیئر کے مرنے کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد 1856 میں پیدا ہوا۔ شیکسپیئر (1616-1564) نے اپنے زمانہ میں انگریزی زبان کو جہاں پایا تھا اس پر اس نے اپنی کوششوں سے مزید اضافہ کیا۔ حتیٰ کہ اس کو ترقی کے ایک نئے مرحلہ میں پہنچا دیا۔ شیکسپیئر کے بعد سینکڑوں اہل قلم پیدا ہوئے جو اس کو مزید آگے بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ زبان اس اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ تک پہنچ گئی جہاں سے برنارڈ شا کو موقع ملا کہ وہ اپنی قلمی جدوجہد کا آغاز کرے ۔ برنارڈ شا کے پیش روؤں نے اگر اس کے لیے ” کندھا “ فراہم نہ کیا ہوتا تو برنارڈ شا کے لیے ناممکن تھا کہ وہ ادبی ترقی کے اس بلند مقام پر پہنچے جہاں وہ اپنی کوششوں سے پہنچا۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات میں جاری ہے۔ پچھلے لوگ جب ابتدائی منزلیں طے کر چکے ہوں، اسی وقت یہ ممکن ہے کہ بعد کے لوگ آگے کی منزلوں پر اپنا سفر جاری کریں۔ اگر پچھلے لوگوں نے اپنے حصہ کا کام نہ کیا ہو تو آگے آنے والوں کو آگے کے بجائے پیچھے سے اپنا سفر شروع کرنا پڑے گا۔ کیونکہ سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ کھڑے ہوئے ہوں، نہ کہ وہاں سے جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ جس مکان کے نیچے کی دیواریں ابھی تیار نہ ہوئی ہوں اس مکان کی بالائی منزلیں کس چیز کے اوپر کھڑی کی جائیں گی۔ جو قوم ایک ایسے ماضی کی وارث ہو جس نے وراثت میں اپنی اگلی نسلوں کو صرف رومانی شاعری اور پرجوش تقریریں دی ہوں ۔ جو غیر پختہ اقدامات کے نتیجہ میں بربادیوں سے دوچار ہوتی رہی ہو۔ جو جذباتی خوش فہمیوں کی غذا کھاتے کھاتے حقیقت پسندی کا مزاج کھو بیٹھی ہو۔ جس نے ابتدائی استحکام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader