ناکامی کا سبب
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
سے پہلے سیاست بازی میں پڑ کر اپنے مواقع کو ضائع کیا ہو۔ جو اپنی ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے تعلیم، صنعت، تجارت اور زمانی شعور میں تمام قوموں سے پیچھے ہو گئی ہو۔ جو مطالباٹی مہموں اور احتجاجی سیاستوں میں یہ بھول گئی ہو کہ مانگنے سے پہلے منوانے کی طاقت پیدا کرنا ضروری ہے۔ ایسی پچھڑی ہوئی قوم کی اگلی نسلیں آگے کی منزل سے اپنا سفر شروع نہیں کر سکتیں ۔ ان کو لمحہ بہ لمحہ وہاں سے چلنا پڑے گا جہاں سے ان کے باپ دادا نے اپنے راستہ کو چھوڑا تھا۔ ایسے لوگ اگر دوبارہ لفظوں کی اسی بہادری میں مشغول ہو جائیں جس میں ان کے پیش رو مشغول تھے تو یہ صرف اس وقت کو مزید ضائع کرنے کے ہم معنی ہو گا جس کو ان کے باپ دادا بہت بڑی مقدار میں ضائع کر چکے ہیں۔ عملی نتیجہ صرف عملی کاموں کے ذریعہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ الفاظ کی کھیتی سے عمل کی فصل کاٹی نہیں جا سکتی۔ قدرت کو ایک درخت اگانا ہوتا ہے تو وہ بیج سے اپنا عمل شروع کرتی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے انسان کے لیے ایک خاموش سبق ہے۔ ”بیج“ سے چل کر کوئی بھی شخص ”درخت“ تک پہنچ سکتا ہے ۔ مگر درخت سے چل کر درخت تک پہنچنا چاہیں تو ایسا واقعہ اس زمین پر کبھی نہیں ہوگا۔
الٹا ہرام دہلی کی سب سے اونچی عمارت وکاس مینار ہے۔ جب یہ عمارت بنی اور اخبار میں اس کی خبر چھپی تو خبر کا پہلا لفظ یہ تھا: ”شہر کی 21 منزلہ عمارت تیار ہوگئی“۔ ظاہر ہے کہ عمارت اس طرح نہیں بنی کہ اس کی 21 ویں منزل سب سے پہلے بن کر کھڑی ہوگئی ہو۔ عمارت کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد سے شروع ہوا۔ پھر ہوتے ہوتے کئی سال میں اوپر ی منزل تک پہنچا۔ مگر خبر کی ترتیب میں ”21 منزلہ “ کا لفظ سب سے پہلے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader