راز حیات
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
اخباروں میں خبر مرتب کرنے کا یہی طریقہ رائج ہے۔ اس طریقہ کو صحافتی اصطلاح میں مثلث معکوس یا الٹا ہرام (Inverted Pyramid) کہتے ہیں۔ یعنی خبر کو اس کی اصلی ترتیب کے ساتھ بیان کرنے بجائے الٹی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا۔ کوئی واقعہ جو ہماری زندگی میں پیش آتا ہے ۔ وہ ایک فطری ترتیب سے پیش آتا ہے۔ اس کی ایک ابتدا ہوتی ہے ۔ پھر درمیانی اجزاء سامنے آتے ہیں۔ اس کے بعد اس کا آخری اور انتہائی جز ء وقوع میں آتا ہے۔ یہ واقعہ کی فطری ترتیب ہے۔ مگر اخباری رپورٹر کو معاملہ کی واقعاتی ترتیب سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ اس کے پیش نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ فوراً کوئی بڑی سی بات کہہ کر قارئین کی توجہ اپنی طرف مائل کر لے۔ اسی لیے جب وہ خبر کو مرتب کرتا ہے تو وہ اس کی ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ اصل واقعہ کا جو جز ء بالکل آخر میں پیش آیا تھا اس کو وہ آغاز میں رکھ دیتا ہے اور اس کے بعد پوری خبر بیان کرتا ہے ۔ گویا کہ ’’اہرام‘‘ کے بننے کی ترتیب خبر کی صورت اختیار کرتے وقت الٹ جاتی ہے۔ اخباری رپورٹر ایسا اس لیے کرتا ہے تا کہ وہ پہلے ہی مرحلہ میں ناظرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکے۔ ’’الٹا ہرام‘‘ اخبار کے صفحات میں بن سکتا ہے مگر وہ زمین پر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ملت کے مستقبل کا قلعہ بھی الٹی سمت سے صرف الفاظ کی دنیا میں کھڑا کیا جا سکتا ہے وہ حقیقت کی دنیا میں وجود میں نہیں آسکتا۔ اگر آپ کو تعمیر ملت کی لفظی مہم چلانا ہے تو وہ ایک ’’عہد آفرین‘‘ اعلان یا ایک ’’تاریخ ساز‘‘ اجلاس کے ذریعہ آخری منزل سے بھی شروع ہوسکتی ہے۔ مگر کوئی واقعی تعمیر اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ابتدائی مقام سے اپنے کام کا آغاز کیا جائے۔ الفاظ بولنے والا اپنے پہلے ہی جملے میں آخری منزل پر چھلانگ لگا کر یہ کہہ سکتا ہے ’’شہر کی ہیں منزلہ عمارت تیار ہوگئی‘‘۔ لفظ بولنے والے کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے ’’عمل‘‘ کو آخری مرحلہ سے شروع کرے۔ مگر جو شخص ایک حقیقی واقعہ کو ظہور میں لانا چاہتا ہو اس کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader