راز حیات
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
ماسٹر نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی لفٹ کے بجائے سیڑھی سے چڑھنا۔ زندگی میں کوئی چھلانگ نہیں ۔ یہاں ایسا کوئی بٹن نہیں ہے کہ آپ اس کو دبا ئیں اور اچانک ایک لفٹ متحرک ہو کر آپ کو اوپر پہنچا دے۔ یہاں تو زینہ بہ زینہ ہی سفر طے کیا جا سکتا ہے۔ آپ "سیڑھی" کے ذریعے اپنی زندگی کو کامیاب بنا کر ایک لفٹ خرید سکتے ہیں مگر "لفٹ" کے ذریعہ اپنی زندگی کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔ تنگی میں وسعت ایک آدمی نے شہر میں عینک کی دکان کھولی۔ عینک بیچنے والوں کو اپنے گاہکوں کی سہولت کے لیے آنکھ کے ٹیسٹ کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے۔ تا کہ آدمی ایک ہی جگہ اپنی آنکھوں کی جانچ کرائے اور وہیں سے عینک بھی لے لے۔ مگر اس آدمی کی دکان ٹیسٹ کی ضرورت کے لیے چھوٹی تھی ۔ آنکھ کے ٹیسٹ میں دور کی نگاہ جانچنے کے لیے اصولاً 18 فٹ کے فاصلہ سے پڑھوایا جاتا ہے، جب کہ اس دکان میں صرف اس کے نصف کے بقدر گنجائش تھی ۔ یعنی گاہک کو بٹھانے کی جگہ سے لے کر دیوار تک کا فاصلہ بمشکل 9 فٹ بنتا تھا۔ "نو فٹ کو شیشہ لگا کر اٹھارہ فٹ کر لیں گے،" دکان دار نے اپنے دوست کے سوال کے جواب میں کہا۔ دوست نے اس سے پوچھا تھا کہ تم اتنی چھوٹی دکان میں آنکھوں کے ٹیسٹ کا انتظام کیسے کرو گے ۔ دکان دار نے بتایا کہ پڑھانے والے حروف کا چارٹ جس دیوار پر لٹکا ہو، اس کے بالکل سامنے دوسری دیوار پر اگر آئینہ لگا دیا جائے اور ٹیسٹ کرانے والے کو اصل چارٹ کے بجائے آئینہ کے عکس میں پڑھوایا جائے تو پڑھنے والے شخص اور پڑھی جانے والی چیز کے درمیان کا فاصلہ خود بخود دگنا ہو جاتا ہے۔ آدمی کی نگاہ پہلے 9 فٹ کا فاصلہ طے کر کے آئینہ کو دیکھتی ہے۔ پھر آئینہ کی مدد سے اس کی نگاہ مزید 9 فٹ کا فاصلہ طے کر کے چارٹ تک پہنچتی ہے۔ اس طرح کل اٹھارہ فٹ ہو جاتے ہیں۔ دکان دار نے ایسا ہی کیا۔ چھوٹی دکان کے باوجود اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader