Urdu book · راز حیات

تنگی میں وسعت

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں آنکھوں کے ٹیسٹ کا ویساہی انتظام ہوگیا جیسا بڑی دکانوں میں ہوتا ہے۔ یہی اصول زندگی کے ہر معاملہ میں چسپاں ہوتا ہے۔ آپ کے مواقع اگر کم ہوں، آپ کے لیے پھیلنے کا دائرہ تنگ ہو تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے ’’نو فٹ‘‘ کو ’’اٹھارہ فٹ‘‘ بنا سکتے ہیں۔ آپ کا مکان چھوٹا ہو تو دو منزلہ بنا کر اس کو وسیع کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس سرمایہ کم ہو تو دیانت داری کا ثبوت دے کر اس کی تلافی کر سکتے ہیں۔ آپ کی ڈگری معمولی ہو تو خوش اخلاقی کے ذریعہ اس کو زیادہ کار آمد بنا سکتے ہیں لڑ کر آپ کے لیے جیتنے کے مواقع نہیں ہیں تو حکمت کا طریقہ اختیار کر کے اپنے حریف کو قابو میں لاسکتے ہیں۔ سیاسی اقتدار میں آپ کو کم حصہ ملا ہے تو اقتصادی میدان میں ترقی کر کے اپنے آپ کو آگے لے جاسکتے ہیں۔ تعداد کے اعتبار سے اگر آپ اقلیت میں ہیں تو اتحاد اور تنظیم میں اضافہ کر کے آپ اکثریت کی برابری کر سکتے ہیں۔ ہر چھوٹی ’’دکان‘‘ بڑی دکان بن سکتی ہے۔ کوئی دکان اسی وقت تک چھوٹی ہے جب تک دکان دار نے اس کو بڑھانے والی حکمت کو استعمال نہ کیا ہو۔ بڑھانے والی حکمت کو استعمال کرنے کے بعد اس دنیا میں کوئی دکان چھوٹی دکان نہیں۔ اتنی عقل جانور کو بھی ہوتی ہے قرآن میں آدم کے دو بیٹوں کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک بھائی نے غصہ میں آ کر دوسرے بھائی کو قتل کر دیا۔ یہ کسی انسان کے قتل کا پہلا واقعہ تھا۔ قاتل کی سمجھ میں نہ آیا کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیا کرے۔ اس وقت اللہ نے ایک کوا بھیجا۔ اس نے مرے ہوئے کوے کو اس کے سامنے ’’دفن‘‘ کیا۔ اس نے اپنی چونچ اور پنجے سے زمین کھودی اور مردہ کوے کو اس کے اندر رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی۔ یہ دیکھ کر قاتل بولا: افسوس ہے مجھ پر۔ میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھپانے کی تدبیر کرتا (31-3:30) یہ نسل انسانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page