پھر کا سبق
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک کنواں ہے جس پر کچھ عورتیں اور بچے پانی بھر رہے ہیں۔ وہ کنویں کے پاس پہنچتا تا کہ اپنی پیاس بجھا سکے۔ مگر وہاں اس نے ایک منظر دیکھا۔ منظر بظاہر چھوٹا سا تھا مگر وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنی پیاس بھول گیا۔ اس کو اچانک محسوس ہوا کہ اس نے پانی سے زیادہ بڑی ایک چیز پا لی ہے۔ اس نے دیکھا کہ گاؤں کے لوگ جو پانی بھرنے کے لیے کنویں پر آتے ہیں، عام طور پر ان کے ساتھ دو عدد مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں۔ ایک گھڑے کو وہ کنویں کے قریب ایک پتھر پر رکھ دیتے ہیں اور دوسرے گھڑے کو کنویں میں ڈال کر پانی نکالتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ جس پتھر پر گھڑارکھا جاتا ہے وہ گھڑارکھتے رکھتے گھس گیا ہے۔ ”گھڑا مٹی کی چیز ہے“ اس نے سوچا“ مگر جب وہ بار بار بہت دنوں تک ایک جگہ رکھا گیا تو اس کی رگڑ سے پتھر گھس گیا۔ استقلال کے ذریعہ مٹی نے پتھر کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ مسلسل عمل نے کمزور کو طاقت ور کے اوپر غالب کر دیا۔ پھر اگر میں برابر محنت کروں تو کیا میں امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیا کوشش کے اضافہ سے میں اپنی کمی پر قابو نہیں پا سکتا۔“ یہ سوچ کر بھاگے ہوئے طالب علم کے قدم رک گئے۔ وہ لوٹ کر اپنے گھر واپس آ گیا اور دوبارہ تعلیم میں اپنی محنت شروع کر دی۔ اگلے سال وہ چوتھی بار ہائی اسکول کے امتحان میں بیٹھا۔ اس بار نتیجہ حیرت انگیز طور پر مختلف تھا۔ اس کے پرچے اتنے اچھے ہوئے کہ وہ اول درجہ میں پاس ہو گیا۔ تین بار نا کام ہونے والے نے چوتھی کوشش میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پتھر کا یہ سبق نوجوان کی زندگی کے لیے اتنا اہم ثابت ہوا کہ اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ جو طالب علم ہائی اسکول میں مسلسل ناکام ہو کر بھا گا تھا وہ اس کے بعد مسلسل فرسٹ آنے لگا۔ یہاں تک کہ ایم اے میں اس نے ٹاپ کیا۔ اس کے بعد وہ ایک اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونی ملک میں گیا۔ اور وہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں جو صرف ایک گاؤں میں پیش آیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ ایسے ”پتھر“ موجود ہیں جو آدمی کو زندگی کا سبق دے رہے ہیں جو نا کامیوں میں سے کامیاب بن کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader