راز حیات
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
نکلنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر نصیحت لینے کا مزاج ہو تو وہ اپنے قریب ہی ایسا ایک ”پتھر“ پالے گا۔ جو خاموش زبان میں اس کو وہی پیغام دے رہا ہو جو مذکورہ نوجوان کو اپنے پتھر سے ملا تھا۔ خود جاننا پڑتا ہے ٹائمس آف انڈیا (18 جولائی 1983) میں ایک دلچسپ قصہ شائع ہوا ہے ۔ ہندوستان کے ایک لیڈر (جن کا نام درج نہیں) 1970 میں فرانس گئے ۔ پیرس میں ان کی ملاقات ایک فرانسیسی لیڈر سے ہوئی جو حکمراں گالسٹ پارٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی لیڈر اور فرانسیسی لیڈر کے درمیان گفتگو کا ایک حصہ حسب ذیل تھا : “Is there anything in particular you would like to do in Paris" Asked the Gaulist. "I am a great admirer of de Gaulle. replied the Indian visitor." I should like to make a courtesy call on him." But he is dead, Sir" “What? Nobody told me in India during the briefing.” "They must have presumed you were aware of it. He died four years ago." فرانسیسی لیڈر نے پوچھا : ” کیا آپ پیرس میں کوئی خاص چیز پسند کریں گے “۔ ہندوستانی لیڈر نے جواب دیا” میں جنرل ڈیگال سے بہت متاثر ہوں اور میری خواہش ہے کہ ان سے ملاقات کروں“۔ کہنے والے نے کہا” مگر جناب ان کا تو انتقال ہو گیا“۔ ہندوستانی لیڈر نے کہا” کیا ، ہندوستان میں فرانس کے حالات بتاتے ہوئے تو کسی نے مجھ سے یہ بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader