Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں کی“ کہنے والے نے دوبارہ کہا ” انھوں نے فرض کیا ہوگا کہ آپ اس کو جانتے ہیں۔ جنرل ڈیگال چار سال پہلے مر چکے ہیں۔“ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر بات بتائی نہیں جا سکتی۔ ضروری ہے کہ آدمی خود کچھ باتوں کو جانے۔ سننے والا اگر پچاس فیصد بات جانتا ہو تو اس کو بقیہ پچاس فی صد بات بتائی جا سکتی ہے۔ اگر وہ نصف بات پہلے سے نہ جان چکا ہو تو بقیہ نصف بھی وہ نہ جان سکے گا۔ خواہ وہ بات کتنی ہی معقول ہو اور کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اس کو پیش کر دی جائے۔ آج کسی سے کہئے کہ ” فلاں کھلاڑی نے سنچری بنائی“ تو وہ فوراً سمجھ لے گا کہ اس سے مراد کرکٹ کے ایک سو (100) رن ہیں۔ مگر یہ کہئے کہ ” قوم کی ترقی کے لیے ایک سنچری کی جد و جہد درکار ہے“ تو اس کو کوئی نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ تعمیر قوم کے معاملہ میں سو سالہ جد و جہد سے کوئی واقف نہیں۔ کامیابی پندرہ سال میں ایک صاحب ایک بیڑی کے کارخانہ میں معمولی ملازم تھے۔ وہاں انھوں نے بیڑی کے کاروبار کے تمام ” گر“ دیکھ لیے اور اس کے بعد اپنا الگ کام کر لیا۔ انھوں نے پانچ ہزار روپے سے اپنا کام شروع کیا تھا۔ مسلسل محنت کے تقریباً پندرہ سال گزارنے کے بعد ان کا بہت بڑا کارخانہ ہو گیا۔ ایک روز اپنے دوستوں سے اپنی کہانی بتاتے ہوئے انھوں نے کہا۔ جس طرح بچہ پندرہ سال میں جوان ہوتا ہے۔ اسی طرح بزنس بھی پندرہ سال میں جوان ہوتا ہے۔ میں اپنی موجودہ حالت تک ایک دن میں نہیں پہنچ گیا۔ یہاں تک پہنچنے میں مجھ کو پندرہ سال لگ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر کام ” پندرہ سال “ ہی میں پورا ہوتا ہے، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ خواہ وہ کوئی کاروبار ہو یا ملی خدمت ہو۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا بھی کوئی نسخہ ہو سکتا ہے کہ جو فوراً کامیاب کر دے وہ خوش خیالیوں کی دنیا میں رہتے ہیں ۔ ” ایک چھلانگ لگاؤ اور منزل تک پہنچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page