Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے قانون الہیٰ کے تحت مقدر ہے ۔ یہی اصول دنیا کی کامیابی کے لیے ہے اور یہی آخرت کی کامیابی کے لیے۔ مستقل ارادہ کسی مفکر کا قول ہے: ”لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادے کی۔“ یہ ایک واقعہ ہے کہ اکثر لوگوں کے اندر صلاحیت پوری طرح موجود ہوتی ہے۔ مگر اس کا فائدہ وہ صرف اس لیے نہیں اٹھا پاتے کہ وہ استقلال کے ساتھ دیر تک جدوجہد نہیں کر سکتے۔ اور کسی واقعی کامیابی کے لیے لمبی جدوجہد فیصلہ کن طور پر ضروری ہے۔ اگر آپ اپنی کوششوں کا کوئی ٹھوس اور مفید نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے دن یہ سوچ لیجیے کہ آپ کو لمبی مدت تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر آپ کے اندر انتظار کی طاقت نہیں ہے تو آپ کو اپنے لیے کسی پائیدار کامیابی کی امید بھی نہیں رکھنا چاہئے۔ زندگی کا راز ایک لفظ میں یہ ہے - جتنا زیادہ انتظار اتنی ہی زیادہ ترقی۔ قومی زندگی کی ”تعمیر“ تھوڑے سے وقت میں بھی ہوسکتی ہے اور اس کے لیے زیادہ مدت بھی درکار ہوتی ہے۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کس قسم کی قومیت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر قوم کے اندر فوری جوش پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر محض منفی نوعیت کے کسی وقتی ابال کو آپ مقصد سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ اگر عوامی نفسیات کو اپیل کرنے والے نعرے لگا کر تھوڑی دیر کے لیے ایک بھیڑ جمع کر لینے کو آپ کام سمجھتے ہیں۔ اگر جلسوں کی دھوم کا نام آپ کے نزدیک قوم کی تعمیر ہے تو اس قسم کی قومی تعمیر، اگر اتفاق سے اس کے حالات فراہم ہو گئے ہوں، آناً فاناً ہو سکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کی تعمیر سے زیادہ قیادت کی تعمیر ہے۔ کیونکہ اس طرح کے شور و شر سے وقتی طور پر کچھ قائدین کو تو ضرور فائدہ ہو جاتا ہے۔ مگر انسانیت کے اس مجموعی تسلسل کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس کو قوم یا ملت کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو اس قسم کے طریقے گویا ایک قسم کا استحصال ہیں۔ جن سے فائدہ اٹھا کر وقتی طور پر کچھ لوگ اپنی قیادت جما لیتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page