راز حیات
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سستی لیڈری حاصل کرنے کا ایک کامیاب نسخہ ہے۔ جس کو سطحی قسم کے لوگ نادانی کی بنا پر یا ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی قوم کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہم کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم شاہ بلوط کا درخت اگانے اٹھے ہیں ، نہ کہ لکڑی کی بیل جمانے ۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو لازمی طور پر لمبا منصوبہ چاہتا ہے۔ تھوڑی مدت میں اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی لیڈر ایسے نعرے لگاتا ہے تو وہ یا تو اس کی سادہ لوحی کی دلیل ہے یا اس کی استحصالی ذہنیت کی۔ اور اگر کوئی قوم ایسی ہے جو لمبے انتظار کے بغیر اپنی تعمیر وترقی کا قلعہ بنانا یا دیکھنا چاہتی ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ ایسے قلعے صرف ذہنوں میں بنتے ہیں ، عالم واقعہ میں نہیں۔ دوسوسال 1782 میں ایک انگریز ایڈنبرا سے گلیسگو آیا۔ اس کے پاس دوسو پونڈ تھے اور ایک لکڑی کا پریس۔ اس نے اس کے ذریعہ ایک اخبار جاری کیا۔ ابتداً اس کا نام تھا گلیسگو ایڈورٹائزر (Glasgow Advertiser)۔ یہی وہ اخبار ہے جواب (Glasgow Herald) کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کی موجودہ اشاعت روزانہ چار لاکھ ہے۔ اس کے اجراے پر اب دوسویاں گزر چکی ہیں۔ اس کا بانی جان میننز (John Mennons) ہر قسم کے ناموافق حالات سے دوچار تھا۔ البتہ ایک مبصر کے الفاظ میں ایک چیز اس کے پاس افراط کے ساتھ موجود تھی۔ وہ تھا اس کا اتھاہ جوش (Limitless enthusiasm)۔ اتھاہ جوش اس کے لیے ہر کمی کا بدل بن گیا۔ اس نے ایک ایسے اخبار کی بنیاد رکھی جو دوسوسال سے مسلسل جاری ہے۔ درمیان میں شرکاء کے درمیان زبردست اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر وہ حکمت اور صبر کے ساتھ طے کر لیے گئے۔ جو اخبار دوسوسال پہلے لکڑی کے پریس میں ہاتھ کے عمل سے چھاپا گیا تھا وہ آج تمام کا تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader