راز حیات
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تعمیر ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ بے فائدہ شور و غل ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کے لیے بے روک ٹوک مواقع کھلے ہوئے ہوں اور میدان میں اس کا کوئی حریف موجود نہ ہو۔ ایسا نہ کبھی اس زمین پر کسی کے لیے ہوا اور نہ آج کسی کے لیے ایسا ہو سکتا ہے۔ زندگی حقیقتاً رکاوٹوں کے درمیان سے اپنے لیے راستہ نکالنے کا نام ہے، نہ کہ رکاوٹوں کی غیر موجودگی میں بے خوف و خطر دوڑنے کا۔ تاریخ کا مطالعہ جس طرح یہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا آغاز ہمیشہ رکاوٹوں اور مشکلوں کے درمیان کرنا پڑتا ہے، اسی طرح تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ رکاوٹیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، ہمیشہ آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ کھلا ہوتا ہے جس سے چل کر وہ اپنی منزل پر پہنچ سکے۔ مگر یہ راستہ انھیں لوگوں کے لیے ہے جو راستہ کے بند مقامات پر سر نہ ٹکرائیں بلکہ دوسرے گوشوں میں اپنے لیے کوئی ’’درہ‘‘ تلاش کر کے آگے بڑھ جائیں۔ پھر تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ حادثہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو، اس کی تلافی کی صورت بھی انسان کے لیے ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی آفت یا حادثہ انسان کے لیے اس امکان کو ختم نہیں کرتا کہ وہ دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ کے ساتھ اپنے عمل کا آغاز کرے اور کھوٹی ہوئی چیز کو دوبارہ نئے انداز سے حاصل کرلے۔ جو کچھ کسی دوسرے انسان کے پاس ہے وہی آپ بھی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس راز کو جان لیں کہ اس دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے حقیقت پسندانہ جدوجہد سے ملتا ہے، نہ کہ تمناؤں اور خوش خیالیوں سے۔ دوسروں کا لحاظ کیپ بیل راجرس پولٹری کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں۔ پولٹری (مرغ بانی) پر ان کی ایک مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے: بڑے پیمانہ کی کامیاب پولٹری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader