راز حیات
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
1858 میں وہ دوبارہ سینٹ کے الیکشن میں کھڑا ہوا اور دوبارہ شکست کھائی۔ یہ بار بار نا کام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (65-1809) تھا جو 1860 میں امریکا کا صدر منتخب ہوا۔ اس نے امریکا کی تعمیر میں اتنا بڑا کام کیا کہ آج وہ نئے امریکا کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ ابراہام لنکن کو امریکا کی قومی اور سیاسی تاریخ میں اتنا معزز نام کیسے ملا اور وہ اس اونچے مقام تک کس طرح پہنچا، ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے: He knew how to accept defeat. حقیقت پسندی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے اور ہار ماننا حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ ہار ماننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کر لیں کہ آپ دوسروں سے آگے نہیں ہیں، بلکہ دوسروں سے پیچھے ہیں۔ بالفاظ دیگر، آپ جہاں فی الواقع ہیں وہیں نظری طور پر اپنے آپ کو کھڑا مان لیں۔ ہار ماننے کے بعد آدمی فورا اس حیثیت میں ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا سفر شروع کر سکے۔ کیونکہ سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ فی الواقع ہیں، نہ کہ وہاں سے جہاں ابھی آپ پہنچے ہی نہیں۔ حقیقت پسندی باغ لگانے کا کام ”باغ کانفرنس“ سے شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ایک ایک پودے کو وہ حالات فراہم کیے جائیں جن میں وہ اپنی ذاتی ایجاڈ کی صلاحیت کو بروئے کار لائے اور درخت کی صورت میں ترقی کر کے باغ کے مجموعہ کا جز ء بن جائے۔ یہی طریقہ ملت کی تعمیر کا بھی ہے۔ ملت کی تعمیر دراصل افراد کی تعمیر کا نام ہے۔ ایک ایک فرد کو باشعور بنانا، ایک ایک فرد کی چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو حقیقی انسان کے درجہ پر پہنچانا، ایک ایک فرد کے اندر یہ احساس پیدا کرنا کہ وہ دوسرے بھائیوں کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنے ترقیاتی امکانات کو ظہور میں لانے کی جدوجہد کرے۔ اسی قسم کے عمل کا نام ملت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader