Urdu book · راز حیات

موقع صرف ایک بار

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

موقع صرف ایک بار کالج کے ایک پرانے استاد کے ایک جملہ نے مجھے بہت متاثر کیا— ’’زندگی صرف ایک بار ملتی ہے‘‘ انھوں نے کہا۔ وہ اپنی زندگی پر تبصرہ کر رہے تھے ’’میں بی ایس سی کرکے ملازمت میں لگ گیا تھا۔ ایم ایس سی نہیں کیا۔ اب کتنے اچھے اچھے چانس میرے سامنے آتے ہیں۔ مگر میں ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ صرف اس لیے کہ میرے پاس ماسٹر ڈگری نہیں۔ اگر آپ کے پاس اعلیٰ لیاقت نہیں ہے تو آپ اعلیٰ مواقع سے فائدہ اٹھانے سے بھی محروم رہیں گے۔‘‘ یہ تبصرہ ہمارے سماج کے تقریباً 99 فی صد لوگوں پر صادق آتا ہے۔ ابتدائی عمر انسان کے لیے تیاری کی عمر ہے۔ مگر بیشتر افراد اس عمر کو پوری طرح استعمال میں نہیں لاتے۔ وہ اپنے بہترین وقت کو سستے مشاغل میں ضائع کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور کام کرنے کا وقت آ جاتا ہے۔ اب وہ مجبور ہوتے ہیں کہ کم تیاری کے ساتھ عملی زندگی کے میدان میں داخل ہو جائیں۔ وہ چاہنے کے باوجود زیادہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ان کو ساری عمر اس طرح گزارنی ہوتی ہے کہ اس دنیا میں ان کی صلاحیتوں کے لیے جو آخری امکان مقدر تھا، اس سے بہت کم امکان تک وہ پہنچ پاتے ہیں۔ وہ محرومی اور ناکامی کے احساس کے تحت زندگی گزارتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔ اگر آپ کم تیاری کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہیں تو اس دنیا میں آپ اپنا بھر پور حصہ نہیں پاسکتے، اور جو ایک بار محروم رہا وہ گویا ہمیشہ کے لیے محروم رہا۔ کیونکہ— زندگی صرف ایک بار ملتی ہے، بار بار نہیں ملتی۔ پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے۔ مگر پتھر اس شخص کے لیے نرم ہو جاتا ہے جس نے اس کو توڑنے کا اوزار فراہم کر لیا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوں تو ہر جگہ آپ اپنا حق وصول کر کے رہیں گے۔ اور اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کے لیے اس دنیا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page