راز حیات
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی مفروضہ حق تلفی کے خلاف فریاد و احتجاج کرتے رہیں۔ ماحول سے امید نہ رکھیے بلکہ اپنی محنت اور لیاقت پر بھروسہ کیجئے، آپ کو کبھی ماحول سے شکایت نہ ہوگی۔ ماحول کی شکایت دراصل ماحول سے زیادہ خود اپنی نالاقت کا اظہار ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وہ مطلوبہ تیاری نہیں کی تھی جو ماحول سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ضروری ہے۔ جھوٹی بڑائی ایک صاحب کا قصہ ہے۔ ان کے دادا کامیاب تاجر تھے۔ مگر بعد کو ان کی تجارت ختم ہوگئی۔ والد اور والدہ کا بچپن میں انتقال ہوگیا۔ مذکورہ صاحب کے حصہ میں باپ دادا کا مال تو نہ آیا البتہ یہ احساس انھیں وراثت میں ملا کہ ”میرے باپ دادا بڑے آدمی تھے“۔ وہ ابھی نوجوان تھے کہ انھیں معلوم ہوا کہ قصبہ کے ڈاک خانہ میں پوسٹ مین کی جگہ خالی ہے۔ وہ درخواست دے کر پوسٹ مین ہو گئے۔ لوگوں نے انھیں مشورہ دیا کہ تمہاری تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک ہوئی ہے، تم کوشش کر کے ہائی اسکول کر ڈالو۔ اس کے بعد تم آسانی سے مقامی ڈاک خانہ میں پوسٹ ماسٹر ہو جاؤ گے۔ اسی کے ساتھ کچھ گھر کی کھیتی ہے۔ دونوں کو ملا کر آسانی سے تمہاری ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ مگر ان کے جھوٹے فخر کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کسی کا مشورہ مانیں۔ مزید یہ ہوا کہ جھوٹی بڑائی کے احساس کی بنا پر اکثر وہ ڈاک خانہ کے کارکنوں سے لڑ جاتے۔ یہاں تک کہ ایک روز انھوں نے پوسٹ ماسٹر سے جھگڑا کر لیا اور کام چھوڑ کر چلے آئے۔ پوسٹ آفس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ بے کار پڑے رہے۔ نہ کوئی دوسرا کام کیا اور نہ تعلیم حاصل کی۔ ان کا مشغلہ صرف یہ رہ گیا کہ اپنی فرضی بڑائی کے تذکرے کریں اور اس کے ذریعہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے رہیں۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد کھیتی سے کام چلتا رہا جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader