راز حیات
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
قیمت میں فروخت کرنی تھی اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب کہ اس کی کہانیاں اتنی جاندار ہوں کہ قارئین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا والٹر اسکاٹ کی غیر معمولی محنت اس کی کہانیوں کی مقبولیت کی ضامن بن گئی۔ اس کی لکھی ہوئی کہانیاں اتنی زیادہ فروخت ہوئیں کہ اس کا سارا قرض ادا ہوگیا۔ والٹر اسکاٹ پر اگر یہ آفت نہ آتی تو اس کے اندر وہ زبردست محرک پیدا نہیں ہو سکتا جس نے اس سے وہ کہانیاں لکھوائیں جس نے اس کو انگریزی ادب میں غیر معمولی مقام دے دیا۔ اس کے بعد والٹر اسکاٹ کوسر کے خطاب سے نوازا گیا۔ والٹر اسکاٹ کے لیے قرض کا مسئلہ نہایت جاں گداز مسئلہ تھا۔ لیکن اگر یہ جاں گداز مسئلہ نہ ہوتا تو والٹر اسکاٹ سر والٹر اسکاٹ بھی نہ بنتا۔ میں پڑھ کر پڑھوں گا فادر ہنری ہراس (1956-1889) ایک اسپینی مسیحی تھے۔ وہ 34 سال کی عمر میں 18 نومبر 1922 کو بمبئی کے ساحل پر اتریے۔ ہندوستان کی زمین نے ان کو متاثر کیا۔ ان کو محسوس ہوا کہ ان کے تبلیغی حوصلہ کے لیے اس ملک میں کام کا اچھا میدان ہے۔ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ یہاں رہ کر اپنا تبلیغی کام انجام دیں گے۔ مگر ہندوستان ان کا وطن نہیں تھا۔ کام سے پہلے ضروری تھا کہ یہاں ان کے لیے قیام کی کوئی بنیاد ہو۔ یہاں اپنی جگہ بنا کر ہی وہ یہاں کی آبادی میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکتے تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ ہندوستان میں بحیثیت معلم کے قیام کریں گے اور اس کے بعد کالج میں اور کالج کے باہر اپنے لیے کام کی تدبیر کریں گے بمبئی کا ہراس انسٹیٹیوٹ (Heras Institute) انھیں کی یادگار ہے۔ فادر ہراس (Fr. Henry Heras) چند دن بعد سینٹ زیو یریس کالج بمبئی کے پرنسپل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader