راز حیات
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ملے وہ ایک تاریخ دان تھے۔ انھوں نے اپنے ملک سے تاریخ میں ڈگری لی تھی۔ پرنسپل نے ان کے کاغذات دیکھ کر پوچھا: ”آپ یہاں کون سی تاریخ پڑھانا پسند کریں گے“ فادر ہراس نے فوراً جواب دیا ”ہندوستانی تاریخ“، پرنسپل کا اگلا سوال تھا: ہندوستانی تاریخ میں آپ کا مطالعہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ”کچھ نہیں۔“ پھر آپ کیسے ہندوستانی تاریخ پڑھائیں گے“، پرنسپل نے پوچھا۔ فادر ہراس کا جواب تھا: I shall study it. میں ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو تیار کروں گا۔ پھر اس کو پڑھاؤں گا۔ فادر ہراس جانتے تھے کہ معلمی کا کام وہ بطور پیشہ نہیں اختیار کر رہے ہیں کہ یورپ کی تاریخ یا جو مضمون بھی وہ چاہیں پڑھائیں اور مہینہ کے آخر میں تنخواہ لے کر مطمئن ہو جائیں۔ ان کے لیے معلمی کا کام ایک خاص مقصد کی خاطر تھا۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے تبلیغی کام کے لیے مناسب بنیاد فراہم کریں اور اس مقصد کے اعتبار سے ان کے لیے ”ہندوستانی“ تاریخ سب سے زیادہ موزوں مضمون تھا۔ وہ ہندوستان میں تھے اس لیے ہندوستانی تاریخ کے معلم بن کر وہ زیادہ بہتر طور پر یہاں کے نوجوانوں میں اپنے دین کی تبلیغ کر سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان کی تاریخ سے نا آشنا ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مضمون کے لیے ہندوستانی تاریخ کو پسند کیا۔ انہوں نے ہندوستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ نہ صرف اس مضمون کے اچھے معلم بن گئے بلکہ ہندوستانی تاریخ میں سر جادو ناتھ سرکار اور ڈاکٹر سریندر ناتھ سین کے درجہ کے مورخ کی حیثیت حاصل کرلی۔ آغاز میں جدید صنعتی دنیا کی ایک اصطلاح ہے جس کو کنجی گھماؤ منصوبہ (Turn-key Project) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا مکمل طور پر بنا بنایا گھر یا کار خانہ ہے جس میں آدمی کا کام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader