Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

انتقامی جذبات کو ذبح کرنا ہوگا۔ اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جو صبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان کا حصول ممکن نہیں۔ عملی حل ایک عالم نفسیات کا قول ہے کہ جب کسی کی انا کو مَس کیا جاتا ہے تو وہ برتر انا بن جاتا ہے اور اس کا نتیجہ ہے فساد: When one's ego is touched, it turns into super-ego, and the result is break-down. عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آخر زمانہ میں اپنے پوتے ابو جعفر کو ایک لمبی نصیحت کی۔ اس نصیحت کا ایک حصہ صبر سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا: من لا يرضى بالقليل مما ياتي به السفيه يرضى بالكثير ( المعجم الكبير للطبرانی ، حدیث نمبر 2258 ) یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔ ان دونوں اقوال میں بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ ایک ہی بات کہی گئی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کے شر سے بچنے کی ایک ہی یقینی تدبیر ہے۔ اور یہ کہ اپنے آپ کو لوگوں کو شر سے دور رکھا جائے۔ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر ”انا“ موجود ہے۔ یہ انا عام حالت میں سویا ہوا رہتا ہے اس کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی صورت صرف یہی ہے کہ اس کو سویا رہنے دیا جائے۔ اگر کسی کارروائی سے اس انا کو چھیڑ دیا گیا تو وہ سانپ کی طرح اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا اور پھر وہ ہر وہ ممکن فساد برپا کرے گا جو اس کے بس میں ہو۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی نادان یا کسی فسادی آدمی سے آپ کو کوئی تکلیف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page