Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

پہنچ جاتی ہے۔ اکثر حالات میں اس کا بہترین حل یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے ۔ کیونکہ اگر ابتدائی معمولی تکلیف کو برداشت نہیں کیا گیا اور اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی تو فریق ثانی اور زیادہ بھڑک اٹھے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جس آدمی نے کنکری کی چوٹ برداشت نہیں کی تھی وہ مجبور کر دیا جائے گا کہ پتھروں کی بارش کو برداشت کرے ۔ دور کا راستہ ترقی یافتہ ملکوں میں ٹیلی فون کا نظام نہایت معیاری ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس غیر ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ ہر جگہ ٹیلی فون ہے مگر اس کا نظام درست نہیں ۔ مثلاً ہندوستان میں اگر آپ مقامی ٹیلی فون کریں یا ایک شہر سے دوسرے شہر بات کریں تو طرح طرح کی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر آپ دہلی سے لندن کے کسی نمبر پر ڈائل کریں تو آپ کو فورا ً لائن مل جائے گی اور نہایت صاف طور پر گفتگو ہو سکے گی ۔ اس سلسلہ میں افریقہ کا ایک لطیفہ اخبار میں نظر سے گزرا۔ افریقہ کے ایک ملک میں کسی عورت نے گوشت کی مقامی دکان پر ٹیلی فون کرنا چاہا۔ کافی دیر تک کوشش کرنے کے باوجود اس کو نمبر نہیں ملا۔ اس عورت کی ماں لندن میں رہتی تھی ۔ اس کے بعد اس نے لندن کے ٹیلی فون پر اپنی ماں کا نمبر ڈائل کیا ۔ یہ نمبر اس کو فوراً مل گیا۔ اپنی ماں سے بات کرتے ہوئے مذکورہ عورت نے ضمنیٰ کہا کہ وہ گوشت منگوانے کے لیے ایک گھنٹہ سے گوشت کی دکان پر ٹیلی فون ملانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ مگر رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ اس کی ماں نے کہا کہ اچھا میں یہاں سے ملاتی ہوں ۔ چنانچہ اس کی ماں نے لندن سے افریقہ کی گوشت کی دکان کا ٹیلی فون نمبر ملایا۔ نمبر بلا تاخیر مل گیا ۔ افریقہ کی گوشت کی دکان کو جو پیغام مقامی ٹیلی فون سے نہیں پہنچ سکا تھا۔ وہ لندن کے ٹیلی فون سے پہنچ گیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page