Urdu book · راز حیات

صبر کی زمین پر

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

وجود میں آنے کے لیے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اسی خاص نظام کے تحت وہ چیز وجود میں آتی ہے۔ کسی اور طریقہ سے ہم اس کو وجود میں نہیں لاسکتے۔ یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جو صبر کی زمین پر دینا پڑتا ہے۔ زندگی ایک ایسی کھیتی ہے جو صبر کی زمین پر اگتی ہے۔ خدا نے ابدی طور پر مقرر کر دیا ہے کہ زندگی کی تعمیر صبر کی زمین پر ہو اب قیامت تک یہی ہونا ہے۔ ہم اس کی تعمیر کے لیے کوئی دوسری زمین نہیں بنا سکتے۔ صبر کسی منفی چیز کا نام نہیں وہ سرا سر ایک مثبت رویہ ہے۔ صبر کا مطلب ہے— بے سوچے سمجھے کر گزرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اپنا کام کرنا۔ جذباتی رد عمل کے بجائے شعوری فیصلے کے تحت اپنا منصوبہ بنانا۔ وقتی نا امیدیوں میں مستقبل کی امید کو دیکھ لینا ۔ حالات میں گھر کر رائے قائم کرنے کے بجائے حالات سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرنا۔ ایک بیچ کو آپ سونے کی پلیٹ میں رکھ دیں تو وہ اپنی زندگی کے سر چشموں سے مربوط نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے اسباب سے بھری ہوئی کائنات میں بے اسباب بنا ہوا پڑا رہتا ہے۔ وہ اپجاؤ کی ساری صلاحیت رکھتے ہوئے اپجنے سے محروم رہتا ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ اگر وہ بے صبری کی حالت میں ہو تو وہ خدائی سر سبز و شاداب دنیا میں ایک ٹھٹھ کے کی مانند سوکھا ہوا پڑا رہے گا۔ لیکن صبر کو اختیار کرتے ہی وہ اچانک خدا کی زمین میں اپنی جڑیں پاللیتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بالآخر پورا درخت بن جاتا ہے۔ جب آدمی حقیقی معنوں میں صبر کا ثبوت دیتا ہے تو وہ بندوں کی سطح پر جینے کے بجائے خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ دنیا کی تنگیوں سے گزر کر وہ آخرت کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بے معنی زندگی کے مرحلہ سے نکل کر بامعنی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ صبر والا انسان ہی مومن انسان ہے۔ اسی کے لیے وہ ابدی انعام مقدر کیا گیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page