Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتی ہیں مثلاً ایک شخص بہادر ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر شدت ہوگی۔ ایک شخص شریف ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر نرمی ہوگی۔ ایک شخص حساس ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر غصہ ہوگا۔ ایک شخص ذہین ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر تنقیدی مادہ ہوگا۔ ایک شخص عملی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر فکری استعداد کم ہوگی، وغیرہ۔ ایسی حالت میں قابل عمل بات صرف ایک ہے۔ ہم جس شخص کے ”روشن پہلو“ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں اس کے ”تاریک پہلو“ کو نظر انداز کریں۔ یہی واحد تدبیر ہے جس سے ہم کسی کی صلاحیتوں کو اپنے لیے کارآمد بنا سکتے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات ہوں یا مالک اور ملازم کے تعلقات یا دکان دار اور شرکت دار کے تعلقات ہر جگہ اسی اصول کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کو ”پھول“ لینا ہے تو ہم کو ”کانٹے“ کو بھی برداشت کرنا ہوگا۔ جس کے اندر کانٹے کی برداشت نہ ہو اس کے لیے اس دنیا میں پھول کا مالک بننا بھی مقدر نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہا آدمی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مطلوبہ کام کی پشت پر کئی آدمیوں کی صلاحیتیں ہوں۔ اسی ضرورت نے مشترک سرمایہ کی کمپنیوں کا تصور پیدا کیا ہے۔ لیکن کئی آدمیوں کامل کر کسی مقصد کی تکمیل کے لیے جہد و جہد کرنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کے افراد میں صبر اور وسعت ظرف کا مادہ ہو۔ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے نہ الجھیں۔ وہ ناخوش گوار باتوں کو یاد رکھنے کے بجائے ناخوش گوار باتوں کو بھلانے کی کوشش کریں۔ معیار پسندی بہت اچھی چیز ہے مگر جب معیار کا حصول ممکن نہ ہو تو حقیقت پسندی سب سے بہتر طریق عمل ہوتا ہے۔ صبر کی زمین پر ہری بھری فصل مٹی کے کھیت میں اگتی ہے، نہ کہ سونے چاندی کے فرش پر۔ یہ محدود معنوں میں صرف زراعت کی بات نہیں۔ بلکہ یہ زندگی کا عالم گیر قانون ہے۔ خدا نے ہر چیز کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page