Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اور وہ ہے۔ دوسرے کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے پیچھے دوڑنا۔ مذکورہ شخص نے اب اسی دوسرے طریقے کو پکڑ لیا۔ انھوں نے 6 ستمبر 1983 کی ایک ملاقات میں کہا کہ اب وہ اپنے کو زیادہ پر سکون بھی پاتے ہیں اور زیادہ کامیاب بھی۔ ناگزیر برائی مسٹر داس کے داس دہلی کے اعلیٰ ترین سرکاری افسران (Seniormost IAS officers) میں سے ایک تھے۔ دہلی کی ایک پوش کالونی ”مدھوبن“ میں ان کا بہت بڑا مکان تھا۔ مگر 13 اگست 1985 کو انھوں نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرلی۔ ان کی اہلیہ مسز بینا داس ایک بجے دن میں ان کے کمرے میں داخل ہوئیں تو ان کا مردہ جسم چھت کے پنکھے سے بندھا ہوا لٹکا تھا۔ موت کے وقت مسٹر داس کی عمر 56 سال تھی۔ وہ حال میں دہلی ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئر مین مقرر ہوئے تھے اور آئی اے ایس کے اسکیل کا آخری مشاہرہ پا رہے تھے۔ اس کے باوجود مسٹر داس نے کیوں خود کشی کرلی۔ اس سلسلہ میں ہم دو اخباروں کی رپورٹ سے چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں۔ پہلا اقتباس ہندوستان ٹائمٹس 4 اگست کا ہے اور دوسرا ٹائمٹس آف انڈیا 4 اگست کا ہے: A businessman friend of Mr Das said the deceased bureaucrat was dissatisfied with many of the postings he got. He said that Mr Das often used to say that he was always given insignificant and ordinary positions. He was also depressed because he felt that he was not being given his due in the Delhi administration. مسٹر داس کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ آنجہانی افسر اپنی کئی تقرری پر مطمئن نہ تھے۔ مسٹر داس اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کو ہمیشہ غیر اہم اور معمولی پوزیشن دی جاتی ہے۔ وہ غیر مطمئن بھی تھے کیوں کہ وہ محسوس کرتے تھے کہ دہلی ایڈمنسٹریشن میں ان کو ان کی واجبی جگہ نہیں دی گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page