راز حیات
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں کوئی شخص اقلیتی فرقہ کا ہو یا اکثریتی فرقہ کا، معمولی ملازم ہو یا اعلیٰ عہدیدار، بہ حال میں اس کو کہیں نہ کہیں امتیازی برتاؤ کا تجربہ ہوتا ہے۔ امتیاز اس دنیا کی ناگزیر برائی ہے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اس احساس سے بچ نہیں سکتا کہ اس کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ اس صورت حال کو گوارا کیا جائے۔ کیوں کہ اس کو گوارانہ کرنا آدمی کو یا تو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے یا خودکشی کی طرف۔ چھلانگ نہیں A young man once came to a venerable master and asked, “How long will it take to reach enlightenment”? The master said, “Ten years.” The young man blurred, “So long”. The master said, “No. I was mistaken. It will take you 20 years”. The young man asked, “Why do you keep adding to it”. The master answered, “Come to think of it, in your case it will probably be 30 years”. اوپر کا اقتباس فلپ کپلیو (Philip Kapleau) کے ایک مضمون سے لیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: ایک نوجوان شخص ایک بار ایک بزرگ استاد کے پاس آیا اور کہا: صاحبِ علم بننے میں کتنا وقت لگے گا۔ ”دس سال“۔ استاد نے جواب دیا۔ ”اتنی لمبی مدت“۔ نوجوان بولا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader