Urdu book · راز حیات

چھلانگ نہیں

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

استاد نے کہا ”نہیں مجھ سے غلطی ہوگئی۔ تمہارے لیے اس میں 20 سال کی مدت درکار ہوگی۔ نو جوان شخص نے پوچھا، ”آپ مدت میں اضافہ کیوں کرتے جا رہے ہیں۔ استاد نے جواب دیا: ”بات کو سمجھو، تمہارے معاملہ میں غالباً اس کو 30 سال لگ جائیں گے۔“ ( آرڈی جنوری 1983 ) ۔ جو مقصد عام رفتار سے 10 سال میں حاصل ہوتا ہو اس کو آپ دس دن میں حاصل کرنا چاہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ چھلانگوں کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ اور چھلانگوں کے ذریعہ سفر ہمیشہ اصل سفر کو طویل تر بنا دیتا ہے۔ چھلانگ لگانے والے کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی چٹان سے ٹکرا جاتا ہے یا کسی کھڈ میں جا گرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو پیچھے لوٹ کر کسی اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے جہاں وہ مدت تک علاج کے لیے پڑا رہے۔ اگر وہ عام رفتار سے چلتا تو وقت پر اپنی منزل تک پہنچ جاتا۔ مگر چھلانگ نے اس کو پیچھے ڈال کر اس کے سفر کو اور لمبا کر دیا۔ کسی کام میں دیر لگانا جتنا غلط ہے اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ آپ اس کو جلد پورا کرنا چاہیں ہر کام کی تکمیل کا ایک وقت ہے اور صحیح تکمیل وہی ہے جو اپنے وقت پر انجام پائے دیر کرنا اگر سستی ہے تو جلدی کرنا بے صبری ، اور خدا کی اس محکم دنیا میں دونوں بالآخر جہاں پہنچتے ہیں وہ بے انجامی کے سوا اور کچھ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page