Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ جہاں جمود آیا وہاں ترقی کا عمل بھی لازمی طور پر رک جائے گا۔ جمود کی حالت طاری ہونے کے بعد آدمی ”مرید“ کے شوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور جس سے مزید کا شوق رخصت ہو جائے وہ جہاں ہے وہاں بھی باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ پیچھے جانا شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں پہنچ جائے گا۔ صحیح سبق حضرت شفیق بلخی اور حضرت ابراہیم ادہم دونوں ہم زمانہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار شفیق بلخی اپنے دوست ابراہیم ادہم کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پر جا رہا ہوں۔ سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کر لوں۔ کیوں کہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔ اس ملاقات کے چند دن بعد حضرت ابراہیم ادہم نے دیکھا کہ شفیق بلخی دوبارہ مسجد میں موجود ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ تم سفر سے اتنی جلدی کیسے لوٹ آئے۔ شفیق بلخی نے بتایا کہ میں تجارتی سفر پر روانہ ہو کر ایک جگہ پہنچا۔ وہ ایک غیر آباد جگہ تھی۔ میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا۔ وہاں میں نے ایک چڑیا دیکھی جو اڑنے کی طاقت سے محروم تھی۔ مجھے اس کو دیکھ کر ترس آیا۔ میں نے سوچا کہ اس ویران جگہ پر یہ چڑیا اپنی خوراک کیسے پاتی ہوگی۔ میں اس سوچ میں تھا کہ اتنے میں ایک اور چڑیا آئی۔ اس نے اپنی چونچ میں کوئی چیز دبا رکھی تھی۔ وہ معذور چڑیا کے پاس اتری تو اس کی چونچ کی چیز اس کے سامنے گر گئی۔ معذور چڑیا نے اس کو اٹھا کر کھا لیا۔ اس کے بعد آنے والی طاقت ور چڑیا اڑ گئی۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا سبحان اللہ۔ خدا جب ایک چڑیا کا رزق اس طرح اس کے پاس پہنچا سکتا ہے تو مجھ کو رزق کے لیے شہر در شہر پھرنے کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہیں سے واپس چلا آیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم ادہم نے کہا کہ شفیق،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page