Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

تم نے اپاہج پرندے کی طرح بننا کیوں پسند کیا۔ تم نے یہ کیوں نہیں چاہا کہ تمہاری مثال اس پرندے کی سی ہو جو اپنے قوت بازو سے خود بھی کھاتا ہے اور اپنے دوسرے ہم جنسوں کو بھی کھلاتا ہے۔ شفیق بلخی نے یہ سنا تو ابراہیم ادہم کا ہاتھ چوم لیا اور کہا کہ ابو اسحاق ، تم نے میری آنکھ کا پردہ ہٹا دیا۔ وہی بات صحیح ہے جو تم نے کہی۔ ایک ہی واقعہ ہے، اس سے ایک شخص نے بے ہمتی کا سبق لیا اور دوسرے شخص نے ہمت کا۔ اسی طرح ہر واقعہ میں بیک وقت دو پہلو موجود ہوتے ہیں۔ یہ آدمی کا اپنا امتحان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایک زاویہ سے دیکھنے میں ایک چیز بری نظر آتی ہے، دوسرے زاویہ سے دیکھنے میں وہی چیز اچھی بن جاتی ہے۔ ایک رُخ سے دیکھنے میں ایک واقعہ میں منفی سبق ہوتا ہے اور دوسرے رخ سے دیکھنے میں مثبت سبق۔ خودکشی مسٹر آناد یوانگادی (بنگلور) اس وقت کیمبرج میں زیر تعلیم تھے جب پنڈت جواہر لال نہرو وہاں تعلیم کے لیے گئے ۔ ان کا اور نہرو کا بہت قریبی ساتھ تھا۔ چنانچہ ان کے بیٹے مسٹر ڈیرین انگاڈی کی پرورش اس طرح ہوئی کہ وہ بچپن سے نہرو کے تذکرے سنتے تھے اور نہرو کی نقل کرتے تھے۔ مسٹر ڈیرین انگاڈی بعد کو فلم ایکٹر بن گئے ۔ لارڈائن برو نے تقریباً 25 کروڑ روپے کے خرچ سے " گاندھی “ نامی مشہور فلم بنائی ہے۔ ابتداً جب اس فلم کے لیے کرداروں کی تلاش ہوئی تو جواہر لال نہرو کا رول ادا کرنے کے لیے مسٹر ڈیرین انگاڈی کو موزوں سمجھا گیا اور ان کو اس کام کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ مگر چھ ماہ بعد انھیں اطلاع دی گئی کہ ان کا نام کرداروں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے اور مسٹر روشن سیٹھ ان کے بجائے پنڈت نہرو کا رول ادا کریں گے : This was six months after Darien Angadi had been given

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page