Urdu book · راز حیات

ایک طریقہ یہ بھی ہے

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی ترجمہ کا مقابلہ کریں۔ جہاں نظر آئے کہ انھوں نے کوئی غلطی کی ہے یا طریق اظہار میں کوتاہی ہوئی ہے اس کو اچھی طرح ذہن کی گرفت میں لائیں اور کتاب کی روشنی میں خود ہی اپنے مضمون کی اصلاح کریں۔ خاتون نے اس بات کو پکڑ لیا۔ اب وہ روزانہ اس پر عمل کرنے لگیں۔ انگریزی اخبار یا رسالہ یا کسی کتاب سے انگریزی کا کوئی مضمون لے کر وہ روزانہ اس کو اردو میں ترجمہ کرتیں اور پھر اپنے اردو ترجمہ کو دوبارہ انگریزی میں منتقل کرتیں اور پھر اپنے انگریزی ترجمہ کو اصل انگریزی عبارت سے ملا کر دیکھتیں کہ کہاں کہاں فرق ہے۔ کہاں کہاں ان سے کوئی کمی ہوئی ہے۔ اس طرح وہ روزانہ تقریبا دو سال تک کرتی رہیں۔ اس کے بعد ان کی انگریزی اتنی اچھی ہو گئی کہ وہ انگریزی میں مضامین لکھنے لگیں ۔ ان کے مضامین انگریزی جرائد میں چھپنے لگے۔ ان کے بھائی نے ایکسپورٹ کا ایک کام شروع کیا جس میں انگریزی خط و کتابت کی کافی ضرورت پڑتی تھی۔ خاتون نے انگریزی خط و کتابت کا پورا کام سنبھال لیا اور اس کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا۔ مذکورہ خاتون نے جو تجربہ انگریزی زبان میں کیا وہی تجربہ دوسری زبانوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہماری دنیا کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی کامیابی تک پہنچنے کے بہت سے ممکن طریقے ہوتے ہیں۔ کچھ دروازے اگر آدمی کے اوپر بند ہو جائیں تب بھی کچھ دوسرے دروازے کھلے ہوتے ہیں جن میں داخل ہو کر وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی شخص کی ناکامی کا سبب ہمیشہ پست ہمتی ہوتا ہے، نہ کہ اس کے لیے مواقع کا نہ ہونا۔ شبہات 1950 کے لگ بھگ کی بات ہے۔ میں اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ خرید رہا تھا۔ ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی اور چھوٹنے کے قریب تھی کہ ایک دیہاتی آدمی ٹکٹ لینے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page