ایک طریقہ یہ بھی ہے
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
بول سکو“ اس کے اپنے حق میں صدقی صدر درست ثابت ہوا۔ اقبال کے اس طریقہ کا تعلق صرف زبان سے نہیں بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ موجودہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو حوصلہ کے مالک ہوں جو بے دھڑک آگے بڑھنے کی ہمت کر سکیں۔ جو خطرہ مول لے کر اقدام کرنے کی جرأت رکھتے ہوں۔ اس دنیا میں غلطی کرنے والا ہی صحیح کام کرتا ہے۔ جس کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ کہیں اس سے غلطی نہ ہو جائے وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ اس کے لیے آگے کی منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔ استاد کے بغیر ایک خاتون نے انگریزی پڑھی۔ ان کے والد مولوی تھے۔ ان کے گھر پر انگریزی کا ماحول نہ تھا۔ چنانچہ ایم۔ اے (انگلش) انھوں نے بمشکل تھرڈ نمبروں سے پاس کیا۔ ان کو شوق تھا کہ ان کو انگریزی لکھنا آ جائے۔ یہ کام ایک اچھے استاد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن ان کے گھر کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ کوئی استاد رکھیں اور اس کی مدد سے اپنے اندر انگریزی لکھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ مگر جہاں تمام راستے بند ہوتے ہیں وہاں بھی ایک راستہ آدمی کے لیے کھلا ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر طلب ہواور وہ اپنے مقصد کے حصول میں اپنی پوری طاقت لگا دے۔ خاتون نے استاد کے مسئلہ کا ایک نہایت کامیاب حل تلاش کر لیا۔ انھوں نے لندن کی چھپی ہوئی ایک کتاب پڑھی۔ اس میں انگریز مصنف نے بیرونی ملکوں کے انگریزی طالب علموں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ انگریزی لکھنے کی مشق اس طرح کریں کہ کسی اہل زبان کی لکھی ہوئی کوئی کتاب لے لیں۔ اس کے بعد روزانہ اس سے چند صفحات لے کر پہلے اس کا اپنی زبان میں ترجمہ کریں پھر کتاب بند کر کے الگ رکھ دیں۔ اور اپنے ترجمہ کو بطور خود انگریزی میں منتقل کریں۔ جب ایسا کر لیں تو اس کے بعد دوبارہ کتاب کھولیں اور اس کی چھپی ہوئی عبارت سے اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader