Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

کارروائی کرنے کے بجائے دوسرے افراد اور خارجی حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کرلے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں آدمی اپنے آپ کو کچل کر دوسرے کو پاتا ہے۔ خارجی تقاضوں کا اعتراف کرکے وہ خارج سے اپنا اعتراف کروانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اپنے سے باہر کی دنیا کو کچھ دینے کے بعد ہی اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا سے اپنے آپ کے لیے کچھ پاسکے۔ ناموافق حالات جانوروں کو جنگل کے ماحول میں ہر وقت اپنے دشمنوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ہر وقت چوکس رہتے ہیں۔ یہ چوکنارہنا ان کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی فطری صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ ان کی شخصیت ختم ہونے نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کو پالنے کے لیے جو بڑے بڑے پارک بنتے ہیں ان میں مصنوعی طور پر ان کے لیے خطرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلاً خرگوش کے پارک میں بلی ڈال دی جاتی ہے یاہرن کے پارک میں ایک شیر یا ایک بھیڑیا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح جانوروں کی چوکس (Alertness) باقی رہتی ہے۔ وہ اپنے تحفظ کی خاطر ہر وقت زندہ اور سرگرم رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو دھیرے دھیرے وہ بجھ کر رہ جائیں گے۔ یہی بات انسانوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ انسان کے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔ یہ صلاحیتیں عام حالات میں سوئی رہتی ہیں۔ وہ بیدار اس وقت ہوتی ہیں جب ان کو جھٹکا لگے۔ جب وہ عمل میں آئیں۔ کسی بھی مقام پر اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ جن خاندانوں میں آسودگی کے حالات آجاتے ہیں اس کے افراد بے حس اور کم عقل ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن خاندانوں کو مشکل حالات گھیرے ہوئے ہوں ان کے افراد میں ہر قسم کی ذہنی اور عملی صلاحیتیں زیادہ اجاگر ہوتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page